سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن

0 126

کوئٹہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے وومن یونیورسٹی سے متعلق بیان کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ کے سٹاف کو درپیش مسائل اور یونیورسٹی کے مالی بحران و دیگر معاملات کا نوٹس لیا جائے، جونیئراہلکاروں کو کلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے ۔بدترین عدم توجہی سے صوبے کی واحد خواتین یونیورسٹی تباہی کے دہانے پر آگئی ہے ان خیالات کا اظہارایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی کی صدر صدف خان و دیگر ممبران نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وی سی مسائل کے حل کی بجائے حقائق کے برعکس بیانات جاری کروا کر چانسلر،سٹاف اور طالبات کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہیں گزشتہ روز جس خاتون کے ذریعہ بیان جاری کرایا گیا وہ جے وی ٹیچر ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی خصوصی نوازشات کی بنائ پر اسٹور کیپر تعینات ہوئی ہیں ان کے پاس مطلوبہ سیکشن کا تجربہ ہی نہیں جبکہ ٹرانسپورٹ ،پرچیز ،ہاسٹل ،ایڈمن سیکرٹریٹ ،جسٹرار آفس ،آئی ٹی سیکشن ?اسٹیبلشمنٹ سیکشن اور ایچ آر سمیت تمام شعبوں میں تمام سینئر اسٹاف کو ہٹا کر جونیئر اور ناتجربہ کار افراد کو تعینات کیا گیا ہےجس کی وجہ سے یونیورسٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی ایمپلائز کی فلاح وبہبود کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے گی۔ بیان میں وائس چانسلر کے رویے کو علم دشمن اور ملازم کش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے گزشتہ روز ایسوسی ایشن کے وفد نے وی سی سے ملنے کی کوشش کی تو وی سی نے نہ صرف ملنے سے انکار کیا بلکہ غلط بیانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون اور صوبے کی روایات کے منافی تمام سینئر آفیسر ز بشمول خواتین کے خلاف تھانہ میں شکایت درج کروائی اب ایک سٹورکیپر کے ذریعہ اخبارات کو بیان جاری کرکے چانسلر، انتظامیہ اور طالبات کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے یونیورسٹی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بھی یونیورسٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہےانہوں نے چانسلرگورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی اور وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے خصوصی اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور صوبے کی اہم درسگاہ کو بحرانوں سے نکالیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.