بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب تر ہے،اختر مینگل

0 127

اسلام آباد (امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب تر ہے، اورماڑہ کے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ابھی تک ہمارے چھ نکات میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوسکا ، چودہ افراد کو قتل کرنے والے کیسے ایران سرحد کراس کر گئے ؟کیا فواد چوہدری بتائیں گے دہشتگرد ساٹھ روپے کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر میں ایران چلے گئے جبکہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہاہے کہ ہماری وزارت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے بل کا مسودہ تیار کرلیا ہے جو وزارت قانون کے پاس ہے،نیشنل پارٹی کے ساتھ طے پانے والے چھ نکات پر عملدرآمد ہونا چاہیے‘ جمہورریت اور امن اسی وقت آئے گا جب لوگوں کے تمام حقوق ملیں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دوروز سے اسمبلی میں جو ہورہا تھا وہ ہمارے مسائل سے زیادہ ضروری سمجھا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قدرتی آفتیں اور کچھ دہشتگردی کی آفتیں اورکچھ ریاستی آفتیں بلوچستان کا مقدر بن چکی ہیں ،ہزار گنجی میں جو ہوا تباہ کن تھا ۔ انہوںنے کہاکہ چودہ افراد کو قتل کرنے والے کیسے ایران سرحد کراس کر گئے ؟جہاں واقعہ ہوا وہاں تک پچاس چیک پوسٹیں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بیس سے زائد افراد فورسز کی وردیوں میں تھے ،کیا فواد چوہدری بتائیں گے دہشتگرد ساٹھ روپے کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر میں ایران چلے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ اس واقعہ کے بعد کچھ عورتوں اور بچوں کو اٹھایا گیا گیا ہے ۔ اپنی تقریر کے دور ان سردار اختر مینگل نے گرفتار بچوں اور لاوارث لاشوں کی تصاویر ایوان میں لہرادیں ۔ انہوںنے کہاکہ سنا ہے کہ اب عورتوں اور بچوں کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ بائیس لاشیں دشت میں دفن کردی گئی ہیں ،کیا ان لاشوں کا ڈی این اے نہیں ہوسکتا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ساتھ چھ نکات پر معاہدہ ہوا کمیٹی باربار بنانے کا کہا گیا وہ کمیٹی نہیں بنی ۔ انہوںنے کہاکہ چھ نکات پر کوئی عمل نہیں ہوا ،اس قلم سے معاہدہ کیا جو آٹھ ماہ بعد بھی پکڑا ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر شیریں مزاری بچوں کی گمشدگی کا بل تو لے آئیں جبری گمشدگیوں کا بل تاحال نہیں آسکا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم حکومت کو پورا موقع دینا چاہتے ہیں۔ اختر مینگل کے جواب میں شیریں مزاری نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ بلوچستان کو حقوق نہیں دیئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت پرعزم ہے‘ بلوچستان کی ترقی میں بلوچ بنیادی فریق ہوں گے، یہ آسان راستہ نہیں، دہائیوں کی محرومیاں آٹھ ماہ میں مکمل نہیں ہو سکتیں۔ انہوںنے کہاکہ بہت سی قوتیں نہیں چاہتی کہ یہ پرانی روایات تبدیل ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری وزارت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے بل کا مسودہ تیار کرلیا ہے جو وزارت قانون کے پاس ہے۔ وزیراعظم کو بھی بتایا کہ یہ بل کافی عرصہ سے وزارت قانون میں پڑا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کی چین سے واپسی پر یہ کام تیزی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی پاکستانی ہیں آپ بھی پاکستانی ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ طے پانے والے چھ نکات پر عملدرآمد ہونا چاہیے‘ سپیکر بھی اس معاہدے میں شامل تھے وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے کسی واقعہ کے بعد بچوں کو اس میں ملوث قرار دینے کا رویہ درست نہیں۔ اختر مینگل کے تحفظات درست ہیں،جمہوریت اور امن اسی وقت آئے گا جب لوگوں کے تمام حقوق انہیں ملیں گے۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان سے دہائیوں سے چلے آنے والی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لئے موجودہ حکومت پرعزم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.