حکومت کا تختہ الٹادیں گے،ملک سکندرایڈوکیٹ

0 175

کوئٹہ(امروز نیوز)بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے کہا ہے کہ حکومت حکمرانی کرنے اورعوام کو فائدہ پہنچنے میں یکسر طور پر ناکام ہوچکی ہے لہذا اسے ازخود مستعفی ہوجانا چاہئے جس دن ہمارے نمبر پورے ہوگئے اس دن حکومت کا تختہ الٹادیں گے حکومت کو آج دکھا دیا کہ وہ اپوزیشن کے بغیر نہیں چل سکتی حکومت غیر منتخب افراد میں فنڈز کی بندربانٹ کر رہی ہے موجودہ بجٹ لیپس ہوچکا ہے اگریہی صورتحال رہی تو اگلا بجٹ بھی لیپس ہوجائے گا۔ یہ بات بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرملک نصیرشاہوانی ،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے اوربی این پی کے رکن اسمبلی و چیئرمین پبلک اکا¶نٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعداپوزیشن چیمبر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ارکان اسمبلی میر زابد علی ریکی،احمد نواز بلوچ ،اصغر علی ترین ،شکیلہ نوید دہوار،حاجی نواز کاکڑ،میر یونس عزیز زہری سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کی اسمبلی اجلاس میں کوئی دلچسپی نہیں آج ہم تحریک التواءلائے لیکن پھر بھی حکومت نے دلچسپی ظاہر نہیں کی صوبے میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے عدالت نے جن سیکٹرز میں کام کرنے کی اجازت دی تھی اگر ان پر کام ہوتا تو آج آن گرا¶نڈ 60سے 70ارب روپے خرچ ہوگئے ہوتے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ سازی نہیں اگر ہوتی تو آج ہم سی پیک سے اربوں روپے کا فائدہ لے چکے ہوتے ہم نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ جن معاملات میں رہنمائی چاہئے ہم مدد کریں گے لیکن ہم سے مدد نہیں لی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج حکومت بند گلی میں کھڑی ہے اس کے پاس ہوئی حکمت عملی نہیں ایسی حکومت حکمرانی کے قابل نہیں وہ اہلیت کھوچکے ہیں آج سرکاری دن تھا لیکن حکومت اپنے ہی دن پر کورم پورا نہ کرسکی یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت معاملات چلانے میں کس قدر سنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس منصوبے کا افتتاح کیا اسکا افتتاح 2009ءمیں وفاقی وزیر حاجی رحمت اللہ کاکڑ کرچکے ہیںیہ منصوبہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے جس علاقے میں گھر بنائے جارہے ہیں وہ سیلابی پانی کی زد میں آتا ہے وزیراعظم سی پیک کے جس روڈ کا افتتاح کر رہے ہیں وہ ژوب میں ہوچکا ہے انہوں نے اسی روڈ کا کوئٹہ سے افتتاح کیااپوزیشن بے زار نہیں بلکہ عوامی حقوق کی پامالی پرپریشان ہے اگر حکومت اپوزیشن کوساتھ لیکر چلتی تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی سیندک پر جو کمیٹی بنائی گئی اسکا اجلاس اس لئے نہیں بلایا جارہا کیونکہ اس میں اپوزیشن ارکان شامل ہیںاپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت تبدیل ہو جس دن ہمیں مطلوب ارکان کی تعداد مل گئی ہم حکومت گرادیں گے بی این پی کے ملک نصیرشاہوانی نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ورلڈ بینک کا 32ارب روپے کا منصوبہ ہمارے ہاتھ سے چلا گیا اس منصوبے کے تحت پانی کی فراہمی پرکام کیا جاناتھا حکومت صوبے کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو موجودہ کے ساتھ ساتھ اگلا بجٹ بھی لیپس ہوجائے گایہ حکومت قابلیت نہیں رکھتی کہ وہ بجٹ خرچ کرسکے یا پھر صوبے کی ترقی کیلئے کام کرسکے چیئرمین پی اے سی اختر حسین لانگو نے کہا کہ ڈلیور کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اگر نواب اسلم رئیسانی چار چار ماہ اسلام آباد میں رہتے تھے تو انہوں نے وہی رہ کر این ایف سی ایوارڈ دلایا صوبے کا بجٹ 300ارب روپے تک پہنچا یا انکا اپنی حکومت پر مکمل کنٹرول تھا لیکن موجودہ حکومت اس قسم کی کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے سے قاصر ہے ۔پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ حکومت 42میں سے 17ارکان بھی حاضر نہیں کرسکتی صوبے میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے حکومت وزراءاور غیر منتخب معاونین میں فنڈ کی بندر بانٹ کر رہی ہے اربوں روپے خزانے میں پڑے ہیں لیکن حکومت انہیں خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی 9ماہ سے ڈیڑھ ارب روپے خزانے میں پڑے ہیں لیکن زکواة کونسل نہیں بن پارہی ہے جو غریب مریضوں پر پیسے خرچ کرے یہ حکومت حکمرانی کا حق نہیں رکھتی اسے مستعفی ہوجانا چاہئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.