حکومتی نااہلی آخری درجے پر ہے ، پریس کانفرنس
کوئٹہ (امروز نیوز) بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حکومت نااہلی کے آخری درجے پر ہے اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ،حکومت اسمبلی کی کاروائی چلانے اور کورم پورا کرنے سے قاصر ہے ، پی ایس ڈی پی سے متعلق عدالتی فیصلہ قابل ستائش ہے حکومت دیر پا ترقیات اہداف اور ایوان سے مشاورت کےے بغیر متاثر کن بجٹ نہیں بنا سکتی ، صوبے کے 82ارب روپے لیپس ہونے جارہے ہیں، ملک میں صدارتی نظام لانے کی کوشش ہورہی ہے جس کا راستہ ہر صورت روکیں گے ،منظم سازش کے تحت صوبے سے لیویز فورس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ،وحدت کالونی مسمار کرنے کی بجائے صوبائی و وفاقی حکومت کی خالی زمین پر فلیٹ تعمیر کےے جائےں ، یہ بات ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں اپوزیشن لیڈر ملک سکند ر خان ایڈوکیٹ، سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئےسانی ، اراکین صوبائی اختر حسین لانگو، اسمبلی ثناءبلوچ ، نصر اللہ زیرے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر اراکین اسمبلی ملک نصیر شاہوانی ، میر اکبر مینگل ،حاجی نواز کاکڑ ،ٹائٹس جانسن بھی موجود تھے، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ نے کہا کہ گزشتہ دو اجلاسوں سے حکومت کے غیر سنجےدہ روئےے کی وجہ سے اجلاس کی کاروائی ادھوری رہ جاتی ہے ، گزشتہ روز بھی سیندک و دےکوڈک ، بے روز گار ویٹرنری ڈاکٹرز ،وحدت کالون میں مکانات مسمار کرنے جےسی اہم قرار دادوں سے فرار اختےار کرنے کے لئے حکومت نے اجلاس ملتوی کردیا گےا،انہوں نے کہا کہ وحدت کالونی کے 500مکانات مسمار کرکے وہا ں5ہزار فلیٹ تعمیر کےے جار ہے ہیں اس علاقے میں نکاسی آب ، پےنے کے پانی سمیت دےگر اہم سہولیات کا پہلے ہی مسئلہ چل رہا ہے اور حکومت وہا ں فلیٹ بنا رہی ہے یہ اقدام صوبے کی معاشرتی زندگی کے بھی مخالف ہے ،انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے رمضان المبارک کے دوران بجلی کی فراہمی اور ٹیوب ویلز کو بجلی مہیا کرنے کی رولنگ دی اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں ،ملک سکندر نے کہا کہ پی ایس ڈی پی سے متعلق محکمہ پی اینڈ ڈی نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں ان میں صرف اسکیم کا نمبر درج ہے جبکہ علاقے کا نام ، یا دےگر ریکارڈ موجود نہیں محکمہ پی اینڈ ڈی نے ایوان کے اراکین کا استحقاق مجروع کیا ہے اس پر تحریک استحقا ق لائےں گے ،انہوں نے کہا کہ لیویز سے متعلق وزیراعلیٰ نے خود ایوان میں بیان دیا تھا کہ ہم لیویز کی استدعا ئے کار بڑھا ئےں گے اور اس منظم کریں گے لیکن اپنے و ہ خود اپنے بیان سے منحرف ہوکر لیویز کو پویس میں ضم کر رہے ہیں یہ عمل صوبے میں پہلے بھی ہوچکا ہے جسکی وجہ سے آج تک افسران تذبذب کا شکار ہیں حکومت بلوچستان کے عوام کے ساتھ مذاق کر رہی ہے ،29جنوری کو حکومتی اراکین لیویز کو پولیس میں ضم نہ کرنے کی قرار داد بھی منظو ر ہوچکی ہے صوبے کے قبائلی عوام کے ساتھ مذاق کیا جار ہا ہے اور یہ حکومت کی نااہلی کا آخری درجہ ہے ،ایک سوال کے جواب میں انکا کہناتھا کہ حکومت نہ از خود کورم پورا کر سکتی ہے نہ ہی کاروائی چلا سکتی ہے اسمبلی کو اپوزیشن ہی چلا رہی ہے اجلاس کے تین گھنٹے کا ہونا لازم نہیں ہے اگر ہم سڑکوں پر جائےں تو حالات خراب ہونے کا بہانہ کیا جا تاہے یا پھر احتجاج کو پر شرپسند ی کہا جاتا ہے ہم صوبے کے عوام کے حقوق کی آواز ایوان میں ہی بلند کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سال کا 82ارب کا پی ایس ڈی پی لیپس ہونے جارہا ہے ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم خان رئےسانی نے کہا کہ جب میںوزیراعلیٰ تھا اس وقت بڑے پہلوانوں کی مخالفت کے باجود بھی لیویز کو پولیس سے الگ کیا اور قاضی عدالتیں بھی بحال کروائےں ملک میں جو سیاسی حالات ہیں ان سے فیڈریشن کو نقصان پہنچ رہا ہے ،لوگ شاید طاقتور ہوں لیکن انکی حرکات سے ملک اور عوام دونوں دربدر ہونگے ،ملک میں صدارتی نظام لانے کی بات ہورہی ہے ہم اسکی مخالفت کریں گے اور کسی کے آگے گٹھنے نہیں ٹیکیں گے ،انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ملک میں مڈٹرم انتخابات ہونے جارہے ہیں انتخابات کا خرچہ 22سے 23ارب ہے کیا ہم یہ خرچ برداشت کرسکتے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی بات بھی ہورہی ہے ایسا نہیں ہونا چاہےے اس سے ملک کا نقصان ہوگا ،انہوں نے کہا کہ مہنگائی عروج پر ہے ، آئی ایم ایف سے بات چیت کے ذرےعے عالمی اداروں سے قرضے لینے کی راہ ہمروار کی جارہی ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ آئی ایم ایف سے اجلاس میں وزیرپلاننگ ہی موجود نہیں تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عوام کی کوئی پروانہیں ہے ،آئی ایم ایف ہمارا اسکریو ٹائٹ کر رہا ہے جس کا سارا بوجھ عوام پر آرہا ہے حکومت کو چاہےے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے، انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کے فنڈز بند کرنے سے طلباءکو نقصان پہنچ رہا ہے 2013میں بھی مالی بحران کے دوران ہم نے 50کروڑ جاری کےے تھے حکومت کو چاہےے کہ وہ ایچ ای سی کے فنڈز میں کٹوتی سے گریز کرے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت توہین عدالت کی بھی مرتکب ہورہی ہے پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے نے کہا کہ صوبے کا 90فیصد علاقہ لیویز ے زیر کنڑو ل ہے ،تین اضلاع میں لیویز کو پولیس میں ضم کس کی خواہش پر کیا جارہا ہے ،منظم ساز ش کے تحت لیویز پر حملے کروائے گئے تا کہ اسے ختم کیا جا سکے، تاپی گیس منصوبے سے صوبے کو کچھ فائدہ نہیں ملے گا لیکن حکومت خاموش اور عوام کے دفاع میں ناکام ہے ،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ نے کہا کہ صوبے کی ترقی کے حکومتی دعوے حقےقت کے برعکس ہیں حکومت نے دو بار اجلاس اس لےے ملتوی کیا تاکہ پی ایس ڈی پی پر بحث نہ ہوسکے، صوبے کا 80فےصد بجٹ لیپس ہونے جارہا ہے حکومت پسند نا پسندکی بنیاد پر بجٹ بنا رہی ہے جس سے صوبے کے پسماندہ اور جنگ زدہ علاقے تباہی کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ہیں حکومت ایوان کی مشاورت سے بجٹ نہیں بنانا چاہتی اسی لےے وہ راہ فرار اختےار کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی بوسیدہ ہوچکا ہے اسکی تشکیل نو کی ضرورت ہے اس بار بھی بجٹ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے بن رہا ہے جب تک دپر پا ترقیاتی اہداف کو ملحوض خاطر اور سیاسی مداخلت کو ختم نہیں کیا جاتا صوبے کے بجٹ اےسے ہی بنتے رہیں گے اور پسماندگی میں اضافہ ہوگا ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پر عدالتی حکم خوش آئند ہے حکومت کو چاہےے کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرے ورنہ وہ اگلے چار سال بھی بجٹ نہیں بنا پائےگی انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہےے کہ وہ اسمبلی کو سنجےدگی سے لے اور طلباءیونینز کو بحال کرے ،پی اے سی کے چےئرمین اختر حسین لانگونے کہا کہ حکومت 2005میں وحدت کالونی سے متعلق منظور شدہ قرار داد پر عمل کرتے ہوئے ملازمین کو مالکانہ حقوق دے شہر میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بہت سے زمینیں خالی ہیںفلیٹ ان پر بھی تعمیر ہوسکتے ہیں اگر وحدت کالونی مسمار کی گئی تھی احتجاج کریں گے ۔