سکیورٹی اہلکار ڈاکٹرز سے بدتمیزی کرتے ہیں ،سپرنٹنڈنٹ بی ایم سی

0 135

کوئٹہ (امروز نیوز) میڈیکل سپر ٹےنڈنٹ سول ہسپتا ل کوئٹہ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ ٹراما سینٹر میں زخمیوں کے ہمراہ آنے والے غیر متعلقہ مسلح افراد کی ڈاکٹرز سے بدتمیزی پر ڈاکٹروں نے ٹراما سینٹر بند کردیا تھا تاہم ایم ڈی ٹراما سینٹر کے ڈاکٹرز سے مذاکرات کے بعد ٹراما سینٹر کھول دیا گیا ہے ، سیکورٹی کی ناقص صورتحال کے باعث ایمر جنسی میں اکثر مشتعل افراد ٹراما سینٹر میں داخل ہوجاتے ہیں سیکورٹی کی ناقص صورتحال سے متعلق بارہا ں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جاچکا ہے لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی اگر یہی روئےہ جاری رہا تو ڈاکٹروں کو ٹراما سےنٹر بند کر نے سے روکنا نا ممکن ہو گا، یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال میں قائم ٹراما سےنٹر 24گھنٹے کام کر رہا ہے ،پچھلے دنوں ہزار گنجی دھماکے ، چمن دھماکے اور مستونگ حادثے ،سےٹلائٹ ٹاﺅن دھماکے ڈاکٹروں نے 24گھنٹے فرائض سرانجام دئےے لیکن گزشتہ شب مشرقی بائی پاس پر فائرنگ کے واقعہ کے دو زخمی ٹراما سےنٹر لائے گئے انکے ساتھ50افراد آپریشن تھیٹر میں گھس آئے جنہوں نے نہ صرف گالم گلو چ کی بلکہ ٹراما سنےٹر میں تو ڑ پھوڑ اور ڈاکٹروں پر بھی تشد د کیا ، جس کے بعد ڈاکٹروں نے رات کو احتجاجاً ٹراما سےنٹر بندکردیا تھا لیکن ا ن سے بات چیت کر کے سےنٹر دوبارہ فعال بنایا گیا ،انہوں نے کہا کہ ٹراما سےنٹر کی سکیورٹی کے انتظامات ناقص ہیں پولیس تحفظ دےنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے اس حوالے سے کئی بار آئی جی اور ڈی آئی جی کو بھی بتایا ہے کہ ہمیں سکیورٹی کے مسائل ہیں لیکن ہماری شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کا آخر قصور کیا ہے گزشتہ شب فائرنگ کے دونوں مریض کا بہت خون بہہ رہا تھا لیکن ابھی وہ خطرے سے باہر ہیں ڈاکٹروں نے دونوں مریضوں کا پوری رات علاج کیا اور انکی جان بچائی ،انہوں نے کہا کہ جتنے بھی لوگ آتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ڈاکٹروں کو کام کر نے کی اجازت دیں ہمارے ڈاکٹر سحر اور افطار ہسپتال میں کرتے ہیں اس کے باوجود بھی مسائل آرہے ہیں ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور ڈی جی نیب کو بھی ٹراما سےنٹر کا دورہ کروایا لیکن اس کے باوجود بھی شنوائی نہیں ہوئی ہم چاہتے ہیں کہ عوام ڈاکٹر وں سے تعاون کریں اور ساتھ ہی پولیس ہمیں تحفظ دے بصورت دےگر ٹراما سےنٹر بند ہوجائےگا اور ڈاکٹر فرائض کی انجام دہی چھوڑ دیں گے انہوں نے کہا کہ لنگڑا لولا ہسپتال چل رہا ہے اسے چلنا دیا جائے ،گزشتہ شب توڑ پھوڑ اور تشدد کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی ہے،ایک سوال کے جواب میں ایم ایس سول ہسپتال نے کہا کہ صحافیوں کو کسی بھی وقت ہسپتال میں کوریج سے نہیں روکا گیا ، ہمارا موقف ہے کہ اےمر جنسی صورتحال میں پہلے مریضوں کو اسٹےبل کرنے دیں پھر ہم میڈیا سے بات بھی کریںگے اور انہیں فوٹےج بھی بنا نے دیں گے صحافیوں سے گزارش ہے کہ ایمرجنسی میں تھوڑی دیر صبر کریں تا کہ ہم مریضوں کو سہولیات مہیا کی جا سکیں ،ہم چاہتے ہیں کہ پہلے ہمیں مریض دیکھنے دیں عجلت میں کام نہ کریں ،انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی جانب سے عملے کے جن لوگوں کے خلاف تحریری درخواست دی گئی تھی انکے خلاف کاروائی کی گئی ہے آئندہ بھی صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں گے ، اس موقع پر ایڈیشنل منےجنگ ڈائر یکٹر ٹراما سےنٹر ڈاکٹر اعظم بابر ،وسیم بیگ و دےگر بھی ایم ایس سول ہسپتال کے ہمراہ تھے

Leave A Reply

Your email address will not be published.