کوئٹہ ،مسجد میں بم دھماکے سے 4نمازی شہیدبچوں سمیت28زخمی،

0 148

کوئٹہ (امروز نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مسجد میں دھماکے کے نتےجے میں پیش اما م سمیت چار نمازی شہید جبکہ 28زخمی ہوگئے ، دھماکے مسجد میں منبر کے قریب ٹائم ڈیوائس کے ذرےعے کیا گیا ، دھما کے نتےجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا ،مسجد کے باہر خاطر خواہ سکیورٹی موجود نہیں تھی، تفصےلات کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ کے علاقہ پشتون آباد میں جامع مسجد رحمانیہ میں نماز جمعة المبارک کے خطبہ سے کچھ دےگر قبل ٹائم ڈیوائس بم دھماکے کے نتیجے میں پیش امام سمیت 4 نمازی شہید جبکہ بچوں سمیت 28 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے سے مسجد شدید نقصان پہنچا اور نزدیکی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی تفصیلات کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ علاقے پشتون آباد میں واقع جامع مسجد رحمانیہ میں خطیب مولانا عطاءالرحمان خطبہ دےنے سے قبل تقریر کر رہے تھے کہ اچانک منبر کے قریب نصب کیا گیا دھماکہ خیز مواد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پیش امام مولانا عطاءالرحمان، نمازی شاہ زیب ،سلطان محمد سمیت چار افراد شہید ہوگئے جبکہ مسجد میں موجود 28 نمازی زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لئے سول اور بی ایم سی ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں حالت بہتر ہونے پر 18زخمیوں کو ہسپتال سے فارغ کردیا گیا جبکہ رات گئے تک 10زخمی سول ہسپتال میں زیر علاج تھے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فرنٹیئر کور اور بم ڈسپوزل کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے اور مسجد کو گھیرے میں لےکر زخمیوں اور شہید ہونے والے افراد کو سول سنڈیمن ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا جہا ں سے تین زخمیوں کو بی ایم سی کے برن وارڈ منتقل کیا گیا زخمیوں میں روزی محمد ، سردار محمد ، راشد علی ، سرور خان، اجمل خان ، 9 سالہ حفیظ الرحمان، حاجی عباد الرحمان ، نصیر خان، اجمل خان، حکمت، سعید، دلشاد، گل شاہ ولی، رحیم داد، ، عبدالرحمان، عزیز اللہ، نور الدین، خواجہ محمد، مشتاق احمد، بچہ محمد یعقوب، بچہ محمد یونس، فدا محمد، حبیب اللہ، سمیع اللہ، محمدآصف، ناصر ، خالو، عطاءمحمد شامل ہیں۔دھماکے کی شدت سے مسجد کی کھڑکیاں ، دروازے اور شیشے ٹوٹ گئے جبکہ قرےبی عمارتوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت مسجد میں 60 سے 70 نمازی موجود تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیادھماکہ خیز مواد اسٹےبلائزر میں نصب تھا جس میں ڈھائی کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ،مسجد میں تقریباً 1000 افراد سے زائد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے بتائی جاتی ہے تاہم نماز جمعہ میں وقت ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی کم تعداد مسجد میں موجود تھی ،بتایا جارہا ہے کہ دھماکے کے وقت مسجد میں سیکورٹی کے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے ہسپتال انتظامیہ نے نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردیں جبکہ مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.