ملک و قوم کی فلاح کیلئے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ، اصغر اچکزئی

0 141

لورالائی ( امروز نیوز) اے این پی کے صوبائی صدر اور بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ایم پی اے سردار اصغر خان اچکزئی نے لورالائی میں بسم اللہ جان لونی کے چہلم کے موقع پر کارکنوں سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بسم اللہ خان لونی کی سیاسی تعلیمی سماجی اور علاقائی خدمات ان کی بہادری دلیری قربانیون جدوجہد اور بلاتفریق انسانی خدمات پر ان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کرنے کیلئے اسی طرح کے اتحاد و اتفاق اور جذبے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں ہمارے دشمنوں نے مختلف ناموں قوموں اور مذہب کے نام پر تقسیم کرکے ہمارے وسائل پر قابض ہوگئے ہیں ہمیں تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے ہمارے عوام کو صحت کی سہولیات سڑکوںکی سہولیات اور بہترزندگی گزارنے جسیے وسائل سے ایک سازش کے تحت محروم رکھا گیا ہے آج ہمارے وکیل انجینئر ز ڈاکٹرز اور علماءکرام مساجد مدارس سکول اور ہماری روایات ہمارے جرگہ سسٹم اور ہماری ثقافت تک محفوظ نہیں ہے ہمارے وسائل کوئلہ گیس معدنیات پر دوسرے قابض ہیں اور ہم ان سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتے ہم اس ملک میں تیسرے درجے کے شہری کی حثیت سے رہتے ہیں ہم کابل پشاور اورکوئیٹہ کے درد کو ایک جیسا محسوس کرتے ہیںپاکستان کو آزاد کرنےاور ایسے ترقی یافتہ بنانے پرامن بنانے میں سب سے زیادہ کردار و قربانیاں پشتون قوم نے دی ہیں خان عبدالصمد خان اچکزئی خان عبدالغفار اور علماءدیوبند کی قربانیا ں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں لیکن اس کے باوجود ہم دہشت گردہیں غدار ہیں بلوچستان سے سب سے بڑی زیادتی سی پیک میں مغربی روٹ کوتعمیر کرنے کی بجائے مشرقی روٹ تعمیر کرنے کوترجیح دی گئی ہم اس ملک میں ہم برابری جیسے اصول سے یکسر محروم ہیں انہوںنے کہا کہ 56ارب روپے سی پیک کے حوالے سے پنجاب میں خرچ کیے گئے ہزاروں کی تعداد میںبلوچستان اور پشتونوں کے صرف دوسو طلباءسی پیک پراجیکٹ کے تحت چائنا بھیجے گئے اور اس میں بھی صرف ایک صوبے کو ایک ادارے کونوازہ گیا پشتونوں کی داڑھی اور پگڑی کے نام پر ان کی نسل کشی کی جارہی ہے آج ہم سب کو ہر مفادسے بلاتر ہوکر اور ہر تعصب سے بلاتر ہوکر ایک ہوکر اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے قومی وحدت کی ضرورت ہے تاکہ ہم سب ملکر افغانستان اور پاکستان میں پشتون قوم کی بقاءکی جنگ لڑ سکیں اور اپنے وسائل اپنی ثقافت اپنے جرگوں اپنے رسم و رواج کا تحفظ کرسکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.