پاکستان اب کبھی بھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کریگا ، عمران خان
اسلام آباد (امروز نیوز)وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب کبھی بھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کریگا ، دوسرے ممالک میں امن قائم کرینگے ، پوری کوشش کریں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ میں دوستی کروائیں، ہم امریکا اور ایران کی دوستی کروانے کو تیار ہیں، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے ،زندگی اونچ نیچ کا نام ہے،سسٹم کی وجہ سے لوگ ترقی نہیں کرسکے، ماضی میں ہم نے نوجوانوں پر توجہ نہیں دی،500 تربیتی سینٹر کھولیں گے، پہلے فیز میں 70 سینٹر مدارس میں کھلیں گے،صحت کارڈ کے ذریعے پاکستان کے تمام غریب گھرانوں کو کور کریں گے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے ہنر فراہم کرنے کےلئے ملک کے سب سے بڑے پروگرام ہنر مند جوان کا افتتاح کردیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوںنے کہاکہ زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، اچھا وقت صرف کہانیوں میں ہی ہوتا ہے اور جو اسے سمجھ جائے وہ ہمیشہ برے وقت میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہماری ہے، اگر ہم انہیں نوجوانوں کو صحیح تعلیم اور ہنر دے سکیں تو یہی اس ملک کو سپر پاور بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نوجوانوں کی تعلیم پر کبھی زور نہیں دیا، انسانی ترقی پر کبھی رقم خرچ نہیں کی اور اپنے سب سے بڑے اثاثے کو ضائع کیا۔انہوںنے کہاکہ یہ ہنرمند پروگرام پہلا قدم ہے جو اپنے اثاثے کو اثاثہ بنائیں جو اس ملک کو اٹھا سکتا ہے اور سال 2019 ملک کے استحکام کا سال تھا جبکہ 2020 ملک کے اٹھنے کا سال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے پیسہ آئے گا وہ تعلیم، صحت اور تکنیکی تعلیم پر خرچ ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے ہنرمند پاکستان پروگرام کے 5 اہم نکات بھی بیان کیے۔ پروگرام کے لیے 30 ارب مختص کیے ہیں، پہلے مرحلے میں 10 ارب روپے استعمال ہوں گے، 5 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا، جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، کلاو¿ڈ کمپیوٹنگ کے ہنر سکھائیں گے جبکہ پہلے فیز میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو تربیت دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 500 تربیتی سینٹر کھولیں گے، پہلے فیز میں 70 سینٹر مدارس میں کھلیں گے کیونکہ آج تک ہم نے مدرسوں کے بچوں کو اپنا نہیں سمجھا۔انہوں نے بتایا کہ 300 اسمارٹ ٹیکنکل سینٹر ہوں گے، جن کی وابستگی انٹرنیشنل کوالٹی ٹیکنکل انسٹیٹیوٹ کے ساتھ ہوگی اور پہلے فیز میں 75 سینٹرز ہوں گے۔ عمران خان نے بتایا کہ اس کے علاوہ نیشنل ایکریڈیشن کاو¿نٹر کھولا جائےگا،جس کا مطلب پاکستان کے تمام سینٹرز کی کٹیگری پر سرٹیفکیشن کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی حکومت پر اس لیے فخر ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی حکومت ہے جس نے مدارس کے 25 لاکھ بچوں کو اپنا سمجھا اور قومی دھارے میں لائے ہیں اور مدارس کے لیے وہ مضمون لائے جس سے وہ کسی بھی شعبے میں جاسکیں۔ پروگرام کا مقصد معیاری پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے ہنر فراہم کرنا ہے۔یہ پروگرام آئندہ 4 برس میں مکمل کیا جائے گا جس پر 30 ارب روپے خرچ ہوں گے جس سے نوجوانوں کو آسان قرضے، پشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے، اسٹارٹ اپ اور انٹرن شپ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ہم یہ غلطیاں کرتے رہے کہ ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ بنتے رہے لیکن اب پاکستان کبھی کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ وہ ملک بنے گا جو دوسرے ملکوں میں امن قائم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ میں دوستی کروائیں، ہماری سب سے بڑی یہی کوشش ہوگی جبکہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی یہی کہا تھا کہ ہم امریکا اور ایران کی دوستی کروانے کو تیار ہیں کیونکہ جنگ کوئی نہیں جیتتا بلکہ جو جیتتا ہے وہ بھی ہار جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کی تھی، اس کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی تھی یہ سب جانتے ہیں، لہٰذا اب یہ وہ ملک ہوگا جو جنگیں نہیں لڑے گا بلکہ لوگوں کو اکٹھا کرکے امن والا ملک بنے گا۔ تقریب کے آغاز میں انہوں نے مدینہ کی ریاست کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ ریاست دوبنیادی اصولوں پر کھڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم ابھی 4 پوائنٹس پر جارہے ہیں، جس میں پہلا اپنے کمزور طبقے کو اوپر لانا ہے اور سب سے پہلا ہمارا احساس پروگرام ہے اور ہم نے مشکل حالات میں اس پروگرام پر پیسہ خرچ کیا ہے، جس کا مقصد صرف غریب طبقے کو اوپر لانا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں کو مشکل حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے، مجھے اس کا احساس ہے، اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے سڑکوں پر سونے والوں کے لیےپناہ گاہ بنانا شروع کیں اور ایک سال کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 170 پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز کے پیکجز کے لیے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اس کا مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم رکھنا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہمارا ایک اور پروگرام ‘صحت کارڈ’ ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے اور پورے ملک میں کہیں بھی اس سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صحت کارڈ کے ذریعے پاکستان کے تمام غریب گھرانوں کو کور کریں گے، اس کے علاوہ ہم غریب بستیوں میں لنگر کھول رہے ہیں۔لوگوں کو روزگار کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ سال 2020 میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھر بنانے کے پروگرام سے 40 صنعتیں کھل جائیں گی اس کے علاوہ ہم بند صنعتوں کے لیے پروگرام لارہے ہیں تاکہ روزگار ہو اور لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھر بنانے کے پروگرام سے 40 صنعتیں کھل جائیں گی اس کے علاوہ ہم بند صنعتوں کے لیے پروگرام لارہے ہیں تاکہ روزگار ہو اور لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس سب سے بڑا اثاثہ زرخیز زمین ہے لیکن ہمارا نظام پرانا ہے جسے ٹھیک کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین معدنیات ہیں اور ہمارے پاس سونے اور تانبوں کی کانے ہیں اور ان 14 کانوں میں سے صرف 2 میں اتنا نفع ہے کہ اس سے ہم بیرون ملک قرضہ ادا کرسکتے ہیں۔