پاکستان کے سرحدات متعین نہیں ہیں،مولانا شیرانی
لسبیلہ(امروز نیوز) جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءمولانا محمدخان شیرانی نے بلدیہ ریسٹ ہاو¿س حب میں پارٹی رہنماو¿ں کے ساتھ پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کے وقت مجھ سے پوچھا گیا تو میں اسی وقت کہا تھا جس طرح گئے ہیں اسی طرح واپس آئیں گے بظاہر ایسا لگتا ہے آگے امیدیں ہیں جس طرح ابھی ایم کیو ایم کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے آگے جاکر شائد بی این پی یا جے ڈی اے بھی اسی موقف پہ جائیں اب وہ موقف اصولی ہوگا یا تجارتی یہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن پھر ہوگا یہ کہ وہ اپنے مفادات کا مطالبہ کرینگے یا وہ وزیر اعظم سے کہیں گے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں یا وہ ان ہاو¿س تبدیلی کیلے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرینگے تو بظاہر ایک چیز گشت کررہی ہے اب دیکھنا ہے کہ یہ سودا ہوگا یا تبادلہ ہوگا یہ بعد میں پتہ چلے گا. انہوں نے کہا کہ یہ ملک 1920 میں آل مسلم لیگ کی تحریک شروع ہوئی تو یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کو بطور جاگیر دیا گیا تھا جغرافیائی یا سیاسی سطح پر مملکت اس کو کہتے ہیں جس میں نظم و معاونت ہو سرحدیں متعین ہو اسکو مملکت کہتے ہیں لیکن پاکستان کے سرحدات متعین نہیں ہیں کیونکہ یہ جو ابھی ہندوستان کا مسئلہ ہے یہ کشمیر ہمارے سرحد کے اندر تھا یا باہر یہ جو ہمارا آزاد کشمیر کہتے ہیں یہ ہمارا حصہ ہے یا نہیں ہے اگر ہمارا حصہ ہے تو اسکا الگ حکومت کی تشکیل کیوں گلگت بلستان ہمارا حصہ ہے یا باہر اگر ہمارا حصہ ہے تو اسکی لے الگ سے کونسل کی تشکیل کیوں اگر یہ دونوں ہم سے باہر ہیں تو ہمیں ان سے کیا پڑی ہے تو یہ عجیب بات ہے باقی یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کی جاگیر ہے یہ سیاستدان یہ صدر وزیر اعظم سب انکے ماتحت ہیں. حالیہ ایران اور امریکہ کے حالات کے سوال کے جواب میں مولانا شیرانی نے کہا کہ امکانات مختلف ہیں ایک امکان ہے کہ یہ عمل امریکہ اور ایران کی باہمی مشاورت سے ہے اگر ایسا ہو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ چاہتا یہ ہے مشرق گستہ کے نقشے مذہب کے بنیاد پر ہوں یعنی شیعہ اور سنی مطلب وہ شیعہ جو ممالک ہونگے انکو ایرانی کے صف میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور سنی ممالک کو سعودی یا ترکی کے صف میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں مجھے ذاتی طور پر خدشہ ہے کہ مستقبل میں ترکی اور ایران کے جگڑے کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ شام کی لمبی سرحدی پٹی جسکو استعمال کرکے مستقبل میں امریکہ ترکی اور ایران کے درمیان جنگ نہ کرائے ترکی سنی کی ترجمانی اور ایران شیعہ کی ترجمانی کرکے یا سعودی یا کوئی اسکو شکل دیکر ہمیں یہ خطرہ ہے. جمعیت علماءاسلام کے نظریاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں دو دھڑوں کی تقسیم سے تحریک کو کوئی اثر پڑتا ہے کہ نہیں یہ بعد کی بعد پہلے جمعیت کے اندر بھی اعتماد نہیں گھر کے اندر کے حالات بھی برابر نہیں ہیں باہر سے کوئی اثر پڑنا بعد کی بات ہے پہلے جماعت کے اندر کا مسئلہ ہے. انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے پہلا جلسہ پشاور میں کیا تھا اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے شکایت ہے اسکا مطلب اسٹیبلشمنٹ پہلے دوست تھا الیکشن میں جو پیٹیاں بھرنی تھیں اسٹیبشلمنٹ نے نہیں بھری اسلیے ہمیں جو امید تھا وہ آپ نے نہیں کیا دوسری بات یہ کہ ہمیں آپ سے شکوہ ہے کہ آپ نے جو وعدے کیے تھے کہ بلوچستان کی حکومت دینگے یا خیبرپختون خواہ کی یا دونوں حکومتیں دینگے وہ وعدے پورے نہیں کیے اسلیے شکوہ ہے.وزیر اعلی بلوچستان کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں مولانا محمدخان شیرانی نے کہا کہ میرے خیال میں ان حکومتوں کو جنہوں نے تشکیل دیا ہے وہ چاہیں تو ابھی تبدیل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنے مفاد میں سمجھیں تو یہ چلتی رہینگے ورنہ وہ گرانا چاہیں انکے لیے یہ کوئی مشکل نہیں ہے.انہوں نے کہا اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سیاستدان کیا حیثیت رکھتے ہیں پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کوئی سیاست کرسکتا ہے ابھی آرمی ایکٹ کے معاملے کو دیکھو پہلے سینیٹ کے انتخابات کو دیکھو تو یہ سب واضع ہے 1989 کے بعد سویت یونین افغانستان سے پسپا ہوچکا تھا تو دنیا سیاست میں دو چیزیں ہوئی ایک قوت کی یعنی سویت یونین کی قوت سیاسی میدان سے نکل چکی ہے صرف مغربی قوت باقی ہے اسی طرح وہ مارکر کی سیاست تھی کہ مقاصد. دلائل. فلسفے. خدمت. اور عوام ہے تو وہ سیاسی فکر سیاسی میدان سے پیچھے ہٹ گئی ہے تو اب مغرب کی سیاست ہے مفادات مقصد کی سیاست غالب ہے تو ظاہر ہے سورج جب غروب ہوتا ہے تو مولوی ہو یا کوئی اور سب غروب ہوجاتے ہیں. سابق صدر پرویز مشرف کے فیصلے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر میرے سوچ سے دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ اس جاگیر کا مالک ہے اور انگریز اس خطے کا حاکم ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان جرنیلوں کا حساب نہیں ہوتا ظاہر وہ جاگیر کا مالک ہے تو مالک پوچھ سکتا ہے کہ یہ تمھارا حق تھا یہ نہیں مگر مالک سے کون پوچھ سکتا ہے تو اس تصور کو کوئی سمجھ سکا تو اسکے لیے یہ معاملات کچھ نہیں. سی پیک کے حوالے انکا کہنا تھا کہ جب اسکا افتتاح ہونے جارہا تھا کہ تو ہمارے رہنماءجارہے تھے اللہ کی قدرت ہے کہ انکو دعوت نامہ بھی نظر نہیں آرہا تھا یہ این ایچ اے کا ہے یہ N50 کا توسیع منصوبہ ہے نہ انکو یہ نظر آرہا تھا یہ پیسے ایشین ترقیاتی بینک کے ہیں لیکن لوگوں کے سامنے کہے رہے تھے کہ ہم سی پیک کا افتتاح کررہے ہیں میں نے پہلے کہا تھا کہ سی پیک میں بلوچستان کا کچھ نہیں ہے۔