سرگودھا یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپس ،سابق وائس چانسلر محمد اکرم سمیت پانچ ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15روز کی توسیع
لاہور ( این این آئی)احتساب عدالت نے سرگودھا یونیورسٹی کی جانب سے لاہور اور منڈی بہائوالدین میں کھولے گئے غیر قانونی کیمپس کیس میں سابق وائس چانسلر محمد اکرم سمیت پانچ ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 15روز کی توسیع کردی ۔احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے کیس پر سماعت کی۔گزشتہ روز سابق وائس چانسلر محمد اکرم سمیت 5 ملزمان کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا ۔نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے بتایا کہ غیر قانونی برانچ بنانے کے کیس میں متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، سابق وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی محمد اکرم ، سابق رجسٹرار بریگیڈئر (ر) جمیل، لاہور کیمپس کے چیف ایگزیکٹو میاں جاوید ،ڈائریکٹر ایڈمن اکرم ،منڈی بہاوالدین کیمپس کے چیف ایگزیکٹو وارث ندیم وڑائچ اور اسکے پارٹنر میاں نعیم بھی گرفتارکیا گیا۔عدالت نے 6ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا تھا لیکن ملزم میاں جاوید جیل میں فوت ہو گیا تھا ۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزمان کو دوران تفتیش کمپلیکس میں گرفتار کیا گیا،ملزمان نے طلبہ سے کروڑوں روپے اکھٹے کئے ،غیر قانونی کیمپس قائم کئے،پھر امتحانات لئے اور نہ ڈگریاں جاری کیں،چیف جسٹس نے معاملے کا سوموٹو نوٹس لیا اور کیس ڈی جی نیب لاہور کو منتقل کیا۔دوران سماعت سابق وائس چانسلر محمد اکرم نے کہا کہ میرا پارٹنر کروڑوں روپے کا سامان اونے پونے بیچ رہا ہے، ڈاکٹر شفیق ہمارا یونیورسٹی کا کروڑوں سامان کا بیچ رہا ہے، اسے روکا جائے۔اگر سامان بیچنا ہے تو اس کی رقم یونیورسٹی کے اکائونٹ میں ڈالی جائے۔نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے کہا کہ انہوں نے پلی بارگین کر لی ہے، نیب کا ان کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔جبکہ عدالت نے بھی کہا کہ عدالت کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں، آپ متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔عدالت نے نیب حکام کو ملزم کی شکایت کا حل کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں پندرہ روز کی توسیع کرتے ہوئے 14 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔