بولان میڈیکل کالج کے مسائل حل کرے ۔ حاجی لشکری رئیسانی
(امروز نیوز)
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمانوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ حکومت بی ایم سی کے ملازمین اور طلباسے نتیجہ خیر مذاکرات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیکر بابا کوٹ کے دہقانوں اور کسانوں سے کئے اپنے وعدے پر عمل کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج کے زیر اہتمام بولان یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں بیٹھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مظاہرے سے سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد،حاجی عبداللہ صافی،یوسف کاکڑ ،میرزیب شاہوانی،عبدالباسط شاہ،عبدالصمد ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ بولان یونیورسٹی آ ف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز کے ملازمین اور طلبہ ڈھائی ماہ سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں تاہم حکومت انکے مسائل حل کرنے کی بجائے ان سے آنکھیں چرارہی ہے، حکومت کی بیگانگی سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔کہ یہ لوگ عوام کے حقیقی نمائندے ہیں نہ صوبے کی تاریخ اوراپنے ووٹر کو جوابدہ ہیں بلکہ بلوچستان کے لوگوں کو بے روزگار اور صوبے کو پسماندہ رکھ کر وسائل کو لوٹنے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ماہ قبل نصیر آباد بابا کوٹ کے دہقانوں نے زمینوں پر قبضہ کیخلاف بلوچستان اسمبلی تک احتجاجی مارچ اور مظاہرہ کیا اسمبلی کے سامنے صوبائی وزرانے انہیں کمیٹی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم تین ماہ گزرجانے کے باوجود مذکورہ کمیٹی کا اعلان نہ ہونے پر جب ان سے رابطہ کیاگیا تو انہیں یاد تک نہیں کہ انہوں نے اسمبلی کے سامنے سراپا احتجاج محنت کشوں اور دہقانوں سے کیا وعدہ کیا تھا۔صوبائی وزراکی جانب سے وعدہ کی پاسداری نہ کرناقابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈھائی ماہ سے سراپا احتجاج مظاہرین سے نتیجہ خیز مذاکرات کاآغاز کرنے کی زحمت تک نہیں کی جو حکومت چھوٹے مسائل حل کرنے کی اہلیت اور صلاحت نہ رکھتی ہو وہ بڑے مسائل کیسے حل کرپائے گی، انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھسیٹ کر ٹرکوں میں ڈال کر تھانوں میں پابند سلاسل کرنے کی بجائے حکومت کو بلوچستان کی روایات کا احترام کرنا چائیے تھا۔حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ سراپا احتجاج ملازمین کو کسی بیوروکریٹ کے دروازے پر کھڑا کرنے کی بجائے مسئلہ کے حل کیلئے حکومت اور اپوزیشن اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیکر ایک باوقار اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرکے بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی کرے،انہوں نے کہاکہ حکومت کی عدم سنجیدگی سے ملازمین کی جاری احتجاجی تحریک کو صوبے بھر میں وسعت دیکر سرکاری ملازمین، سیاسی جماعتوں اور طلباتنظیموں کے اتحاد سے صوبے کے نظام کو جام کردینگے