پاکستان کی پالیسیاں بنانیوالے بیرون ملک عیش، عوام تخریبی کاری کا سامنا کررہے ہیں، حاجی لشکری

0 56

کوئٹہ  سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والا خودکش حملہ ریاست اور ریاستی اداروں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،پالیسیاں بنانے والے بیرون ملک عیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کرانے والوں کا احتساب کیا جائے، ان پالیسیوں کے ذمہ دار ڈکٹیٹرز اور ان کی ہمنوا سیاسی جماعتوں کے اندر بیٹھے مخبر ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والا خودکش حملہ ریاستی اداروں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان پالیسیوں کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ ان تمام سانحات، واقعات اور خون ریزی کی ذمہ دار وہ پالیسیاں ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کو مفلوج کرکے غیروں کے مفاد ات کیلئے ملک پر ڈکٹیٹر کے نظام کو مسلط کیا۔ انہوں نے کہاکہ خون ریزی کا ذمہ دار وہ نظام اور ادارے ہیں جنہوں نے ملک کو سامراجی جنگ کا ایندھن بناکر یہاں تک پہنچایا کہ آج خون ریزی کے واقعات پر پوری دنیا میں کوئی ہمدردی کیلئے آوازنہیں اٹھارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان پالیسیوں کے ذمہ دار ڈکٹیٹرز اور ان کی ہمنوا سیاسی جماعتوں کے اندر بیٹھے مخبر ہیں، غلط پالیسیاں بنانے والوں کا احتساب کرکے انہیں ان پالیسیوں کی سزا دی جائے۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے نیشنل ایکشن پلان کو ایک ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی کارکنوں، سیاسی جماعتوں اور سیاسی عمل کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے، سیاسی کارکن بھی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کا احتساب کریں جو اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مستقبل میں موجودہ حالات سے انتہائی بدترین حالات پید ا ہونے جارہے ہیں ایسے میں سیاسی کارکن اپنے سیاسی عمل کو عوام کیلئے بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست اور ادارے سالہا سال رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات کے باوجود بھی ان کی روک تھام میں ناکام ہیں کیوں کہ اداروں کی پالیسیاں عارضی ہیں اور پالیسیاں بنانے والے ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں، ان تمام پالیسیوں اوران پر عملدرآمد کرانے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتاہوں جنہوں نے اس خطے کو میدان جنگ بنایا اور آج عام لوگ ان پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور پالیسیاں بنانے والے بیرون ملک عیش وعشرت اور مراعات یافتہ زندگی گزاررہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.