سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے بظاہر لگتا ہے انتخابات آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہونگے، شبلی فراز

0 153

ا سلام آباد (امروز ویب ڈیسک) وفاقی وزےر اطلاعات شبلی فراز نے سےنےٹ الےکشن سے متعلق سپر ےم کورٹ کے فےصلے کو تارےخی قرار دےتے ہوئے کہا ہے بظاہر یہی لگتا ہے کہ انتخابات آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہوں گے ۔ ہم مسلسل 2 نظریوں کی جنگ لڑرہے ہیں، ہمار ا نظرےہہر منتخب نمائندہ پیسے کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر پارلیمان میں آئے جبکہ اپوزےشن کا نظرےہ مےرٹ ،شفافےت کا قتل عام اور پےسے کا زور ہے ۔ پیسے کے زور پر آنےوالے گروہی اور کاروباری مفادات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے پےر کو سپرےم کورٹ کا فےصلہ آنے کے بعد مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے کےا ۔ وزےر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے

جس میں بظاہر یہی لگتا ہے کہ انتخابات آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہوں گے لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ہر اقدام اٹھائے اور ووٹ کی رازداری حتمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکشن کمیشن سے ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ بیلٹ پیپر میں ٹیکنالوجی کا استعمال کریں چاہے بار کوڈ کے ذریعے ہوں یا سیریل نمبر کے ساتھ ہو، اس بات کو یقینی بنائیں کہ سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں ووٹ کی رازداری دائمی نہ ہو، وقت کے تقاضے اور ہیں اور زمینی حقائق اور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب اتنے بڑے ادارے کے اراکین کے انتخابات میں شفافیت پر سوال اٹھیں گے تو ان کی اخلاقی حیثیت پر سمجھوتہ ہوتا ہے اور جو پیسے کے زور پر آتے ہیں وہ اپنے، گروہی اور کاروباری مفادات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے

کیوں کہ ان کے ذاتی مفاد ان کے آڑے آتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک اور عوام کی بہتری کے لیے فیصلے نہیں ہو پاتے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ہمارا ملک تمام تر وسائل ہونے کے باوجود اخلاقی اور معاشی طور پر وہ ترقی نہیں کرسکا جس کا وہ حقدار ہے اور اس کا آغاز پارلیمان سے ہوتا ہے، اسی وجہ سے ہم سپریم کورٹ گئے اور آئین کی دفعہ 226 کی وضاحت چاہی، پارلیمان میں بل پیش کیا اور صدارتی ریفرنس جاری کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سب کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عملی طور پر کیا اقدامات کیے جائیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.