ٹرمپ کی اخوان پرپابندیاں
قاہرہ(امروزنیوز) مصری پارلیمنٹ کے رکن ڈآکٹر سمیر غطاس نے کہاہے کہ پچھلے چھ سال کے دوران امریکی کانگریس میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کی متعدد بارکوشش کی گئی مگر کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی طرف سے اس کی شدت کے ساتھ مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ ڈیموکریٹک ارکان کانگریس کا موقف ہے کہ اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت کا دہشت گردی کی کسی کارروائی میں نام نہیں آیا تاہم دوسری جانب مصری تنظیموں اور ارکان پارلیمان نے اخوان المسلمون کے دہشت گرد گروہ ہونے کے حوالے سے ٹھوس شواہد مہیا کیے ہیں۔ اخوان المسلمون کے وفادار کئی جہادی اور دہشت گرد تنظیمیں مصر اور دوسرے ملکوںمیں دہشت گردی کی مسلسل کاروائیوں میںملوث ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں اخوان المسلمون کو بلیک لسٹ کرنے سے 76 ملکوں میں پھیلے اخوانی نیٹ ورک پر کاری ضرب لگے گی۔ اخوان لیڈر اور اس کے عناصر کی نقل وحرکت محدود ہوجائے گی اور ان کے اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔ اس طرح اخوان المسلمون شدید گھٹن اور پابندیوں کی فضاءمیں رہنے کے بعد خود ہی اپنا وجود کھو دے گی۔باسل غطاس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے نتیجے میں جرمنی، سوئٹرزلینڈ، برطانیہ، قطر اور ترکی میں بھی اخوان کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی کیونکہ اخوان کا ایک بڑا نیٹ ورک ان ہی ملکوںمیں قائم ہے۔ امریکا میں اخوان المسلمون پرپابندی لگنے سے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی اخوان کی حمایت پر مبنی پالیسی درگورہوجائے گی۔