2009سے اب تک سینکڑوں پولیس اہلکار دہشت گردی کے شکار، آئی جی بلوچستان
کوئٹہ(امروز نیوز)انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان محسن حسن نے کہا ہے کہ 2009 سے اب تک صوبے میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے 911 پولیس اہلکار و افسران نے مادر وطن پر جانوں کا نذرانہ پیش کیا،محکمہ پولیس کے 2 ڈی آئی جیز، 2 ایس سی پیز، ایک اے ایس پی، 19 ڈی ایس پی، 23 انسپکٹرز، 75 سب انسپکٹرز، 54 اے ایس آئیز، 164 ہیڈ کانسٹیبلز، 552 کانسٹیبلز اور 79 کلاس فور ملازمین دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھ،بلوچستان پولیس نے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور صوبے میں امن کی بحالی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں جبکہ وہ کبھی دہشت گردی کےخلاف نہیں جھکے۔بدھ کو پولیس چیف نے کوئٹہ میں زیر تعمیر سول لائنز تھانے کا دورہ کیا، جہاں حکام نے بتایا کہ جگہ پر تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔بعد ازان وہ گوال منڈی میں ایک اور تھانے گئے جہاں بھی کام تکمیل کے قریب تھا، اس دوران انہیں بتایا گیا کہ کچھ اسٹاف اراکین نے اپنے سرکاری سامان کو یہاں منتقل کردیا ہے۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان نے کہا کہ محکمہ پولیس کے 2 ڈی آئی جیز، 2 ایس سی پیز، ایک اے ایس پی، 19 ڈی ایس پی، 23 انسپکٹرز، 75 سب انسپکٹرز، 54 اے ایس آئیز، 164 ہیڈ کانسٹیبلز، 552 کانسٹیبلز اور 79 کلاس فور ملازمین دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھے۔انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان پولیس نے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور صوبے میں امن کی بحالی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں جبکہ وہ کبھی دہشت گردی کےخلاف نہیں جھکے۔محسن حسن نے مزید کہا کہ 5 کروڑ روپے کی لاگت سے بلوچستان کا پہلا خواتین پولیس اسٹیشن بھی زیر تعمیر ہے۔آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ’روایتی اور قبائلی پابندیوں کی وجہ سے خواتین اپنی شکایات درج کروانے کے لیے پولیس اسٹیشن نہیں آتیں، تاہم خواتین کے پہلے پولیس اسٹیشن کے کھلنے سے خواتین کے بہت سے قانونی اور سماجی مسائل حل ہوں گے، ساتھ ہی اس تھانے کے مکمل ہونے سے خواتین کو نوکریوں کے بھی مواقع ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ 5 نئے پولیس اسٹیشنز کے لیے فنڈز موصول ہوگئے ہیں اور ان کی تعمیر جلد شروع ہوجائےگی۔