ارجنٹائن میں کچرے کے ڈھیر سے ڈالر ملنے لگے

0 108

ارجنٹائن میں کچرے کے ڈھیر سے ڈالرز ملنے کے بعد انتظامیہ نے اس مقام پر عوام کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔

غیرملکی خبر ایجنسی مطابق ارجنٹائن کے علاقے لاس پریخا میں کچرے کے ڈمپنگ پوائنٹ سے مقامی افراد کو چند دن میں لگ بھگ 75 ہزار ڈالرز مل چکے ہیں۔

فریڈریکو بیز بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو کچرے سے ڈالرز ملے ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ایک ٹرک میں سوار تھے جب ان کے دوست کو 100 ڈالر کا ایک نوٹ نظر آیا۔ ان کی توجہ فوری طور پر اس نوٹ پر گئی کیونکہ وہ نوٹ بالکل نیا تھا۔

انہوں نے بتایا وہاں پر مجھ سمیت چھ افراد موجود تھے جنہوں نے کچرے سے لگ بھگ 10 ہزار ڈالرز جمع کیے، بعد میں ایک اور لڑکا آیا جو بہت ہی خوش قسمت تھا جسے 25 ہزار ڈالرز ملے، فریڈریکو بیز کا خیال ہے کہ اس کچرے میں اور بھی زیادہ تعداد میں ڈالر دفن ہیں۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ڈالر اس شخص کے ہیں جس کی موت کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی اور ان کے ورثا نہیں تھے جس کے سبب ان کا سامان کچرے میں پھینک دیا گیا تھا، ممکنہ طور پر یہ ڈالرز بھی ان کے سامان میں کسی خفیہ خانے میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ انتظامیہ ان لوگوں کو یہ ڈالر اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے گئی یا نہیں، اس معاملے پر ملک میں سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

ارجنٹائن میں شہری طویل عرصے سے افراط زر کا شکار ہیں جبکہ لوگ ملکی بینکنگ کے نظام پر بھی اعتماد نہیں کرتے، اس لیے عمومی طور پر لوگ ڈالرز کی صورت میں اپنی رقم محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ارجنٹائن میں حکام نے 2019 سے ڈالر کے حوالے سے سخت اقدامات شروع کیے ہوئے ہیں تاکہ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔

وقت کے ساتھ ساتھ قواعد کو سخت کیا جاتا رہا ہے۔ ملک میں کسی کو بھی انفرادی طور پر ماہانہ 200 ڈالرز سے زائد خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔

لاس پریخا میں کچرے سے ملنے والے ڈالرز کے معاملے سوشل میڈیا پر بھی میمز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں ملک کے حکمرانوں کو کچرے سے ڈالر ڈھونڈتے ہوئے دیکھایا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.