فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل، عدم بازیابی قابل تشویش عمل ہے۔ پی وائی اے
پروگریسو یوتھ الائنس بلوچستان کے صوبائی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ سال یکم نومبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے احاطے سے دن دہاڑے پاکستان سٹڈیز کے دو طالب علم (سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ) کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا، جوکہ تاحال لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ ان دو طالبعلموں کی جبری گمشدگی کے خلاف جامعہ بلوچستان میں مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے ڈیڑھ مہینے کا احتجاج بھی کیا گیا تھا مگر صوبائی حکومت کی جانب سے ایک صوبائی وزیر کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی، جوکہ خود لاپتہ ہے۔ حالانکہ مذکورہ کمیٹی نے طلبہ تنظیموں کیساتھ معاہدہ کیا تھا کہ مخصوص وقت کی مہلت کے لیے احتجاج کو ملتوی کریں، اور ان دو طالبعلموں کو ہم بازیاب کرائینگے، مگر وہ تمام وعدے اور تسلیاں محض جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوگئیں۔
بلوچستان میں سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقدمات میں قتلِ عام اور اجتماعی سزائیں ایک معمول بن چکا ہے اور ان ناروا اقدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس بہر صورت تمام سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں کی پرزور مذمت کرتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان پر قانونی کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے وگرنہ انہیں فی الفور بازیاب کیا جائے۔
پروگریسو یوتھ الائنس فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ کی عدم بازیابی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اُنکی فی الفور بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے، اور اس ضمن میں بلوچستان سمیت پاکستان بھر کے طلباء سے اپیل کرتا ہے، کہ وہ طلبہ کی جبری گمشدگی سمیت دیگر مسائل پر اپنے صفوں کے اندر اتحاد کرتے ہوئے آگے بڑھیں، کیونکہ طلباء اتحاد ہی اس قسم کے مسائل کا واحد حل ہے۔ مگر طلبہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک سیاسی قوت اور منظم پروگرام کی حتمی ضرورت ہوتی ہے جس کے حوالے سے ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پروگریسو یوتھ الائنس ملک گیر طلبہ کی واحد تنظیم ہے جوکہ تمام تر مصنوعی تعصبات اور تفرقات سے بالاتر ہو کر طلباء کو ایک ایسی پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے جہاں پر طلبہ کے بنیادی مسائل سمیت ملک بھر میں جمہوری حقوق کے اوپر قدغن کے خلاف بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ اور ہم ان تمام ترقی پسند طلباء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئیں اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں، تاکہ ظلم، جبر، بربریت اور استحصال پر مبنی معاشرے کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک انسان دوست معاشرے کی تعمیر کو ممکن بنائیں۔