بی این پی صاف شفاف سیاست کا قائل ہے، شفیق الرحمٰن ساسولی

0 189

دیرپا نتائج کیلئے منظّم حکمتِ عملی کے تحت بلوچ وطن اور یہاں بسنے والے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے

خضدار (امروز ویب ڈیسک) بی این پی صاف شفاف سیاست کا قائل ہے، دیرپا نتائج کیلئے منظّم حکمتِ عملی کے تحت بلوچ وطن اور یہاں بسنے والے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ دیگر اکثر جماعتوں کی طرح منفی سرگرمی یا وقتی طور پر ذاتی مراعات و مفادات کی سیاست اسکا شیوہ نہیں رہا اور اپنے عمل سے اس سے بیگانگی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اس لئے مستقل مزاج سیاسی کارکنان ہمارے کاروان کا حصہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بی این پی ڈسٹرکٹ خضدار کے پریزیڈنٹ شفیق الرحمٰن ساسولی نے پارٹی رکن سلمان اکبر گزگی و سماجی کارکن عادل شاہیزئی سے ملاقاتی نشست میں کی۔ درایں اثناء ضلعی نائب صدر نوراحمد میراجی، جنرل سیکرٹری عبدالنبی بلوچ، جوائنٹ سیکرٹری قادر شہزاد بلوچ، لیبر سیکرٹری علی احمد شاہوانی، حاجی منیراحمد رند، کامران شاہیزئی مینگل شریکِ گفتگو تھے۔

شفیق الرحمٰن ساسولی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وقتی مراعات و مفادات والے لوگ ایک عرصے تک سرگرم اور پھر مایوسی اور دل شکستگی کے ساتھ خود کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ کرتے یا کسی اپنے مزاج کے کسی گروہ میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

اس بات سے قطعاً انکار نہیں کہ کچھ سیاسی بُونے اگر کسی کو اپنے قد سے بڑا محسوس کرنے لگیں تو اس کی سیاسی موت کے لیے ہر منفی ہتھکنڈہ استعمال کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور اپنی انا کے مارے جب کوئی منصب پالیتے ہیں تو سیاسی عمل کو فروغ دینے اور عوامی پزیرائی کے لیے منصوبہ بندی کے بجائے ان افراد کی زندگی کا مقصد ہی دوسروں کو دبا کر خود کو بڑا ثابت کرنا، مفاد عامہ کی جدوجہد میں کسی کا دست و بازو بننے کی بجائے مختلف منفی ہتھکنڈوں سے روڑے اٹکانا اور اگر اس سے بھی تسلی نہ ہو تو اپنے ہٹے کٹے جثے کے ساتھ جدوجہد کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہونا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ مخالف نظریہ والوں کے ساتھ ریشم کی طرح نرم اور اپنے سیاسی کارواں کے سنگت کے لیے فولاد بنے رہتے ہیں، ان کا ساتھ دینے کے بجائے بلکہ ان کو گرانے اور پِھسلانے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں متعلقہ سطح پر سیاسی ارتقائی عمل اور فطری تطہیر ہو ہی نہیں پاتی لیکن ایک پختہ و نظریاتی سیاسی کارکن اپنے ہی کاروان یا غیر کاروان میں سے مخالفین کی باتوں کو اپنے لیے تند باد مخالف سمجھ کر مزید اونچا اڑنے کے لیے پر تولنے پر ہر آن آمادہ رہتاہے۔ چاہے وہ اپنی ہی صفوں میں اپنے خلاف بنے محاذ اور منظم ہوتی محلاتی سازشیں دیکھے۔

نظریاتی سیاسی کارکن کا کام یہ نہیں کہ ان کے اپنے ہی قافلے کے رستوں میں رکاوٹیں کھڑی کریں، نظریاتی سنگت اپنے ہمراہ کےاسلوب کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتاہے اور ان کے رستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے خود ان کے لئے نئے راستے تراشتاہے۔

سیاسی عمل میں کوئی منصب اور ذمے داری ہر لمحے سیاسی کارکن سے تقاضہ کرتی ہے کہ اپنے انتہائی سطحی مفادات کے لیے اپنی حدود میں نظریاتی سیاست کا بیڑہ غرق کرنے کی نہ ٹھانیں، اگر محسوس ہو کہ کوئی فرد کسی کام میں مہارت رکھتا ہے یا بہتر طور پر کچھ کرنے کی سکّت رکھتا ہے تو اسے آگے بڑھائیں، اس کے ساتھ تعاون کریں نہ کہ اس کے اور اپنے قد کا موازنہ کرنے لگیں اور خود کو قدآور ثابت کرنے کے لیے کسی کو دبائیں، اسے دیوار سے لگانے کے لیے محلاتی سازشوں پر اتریں اور کوئی بھی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے دریغ نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہاکہ علاوہ ازیں میں بحیثیت ایک بلوچ اس قوم کے حقیقی اور روایات کے علمبردار نواب، سردار و میر اور ٹکریوں و عمائدینِ علاقہ کا قبائلی روایات کے تحت قدر و احترام کو خود پر فرض سمجھتاہوں اور ان سے بھی رِعایا کو عزت دینے کا خواہاں ہوں۔ یہاں تقریباً تمام قبائلی عمائدین اب غیر سیاسی نہیں رہے اور رعایا بھی بہ یک وقت قبائلی و سیاسی ہے تو ہم سب پر لازم ہیکہ سیاست ضرور کریں مگر اپنے قبائلی اقدار و روایات کا خیال ضرور رکھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.