ڈالر کی قدر 227 روپے سے بھی کم ہوگئی

0 128

 کراچی: ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان برقرار ہے، آج انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 227 روپے سے بھی کم ہوگئی۔

 دوست ممالک سے رواں ہفتے 4 ارب ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی ضمانت کی اطلاعات اور اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹرنگ کے سبب جمعرات کو بھی ڈالر کی قدر تنزلی سے دوچار رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ مزید گھٹ 227 جبکہ اوپن ریٹ 227 روپے سے بھی نیچے آگئے۔

انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے میں ڈالر کی قدر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور ایک موقع پر 2 روپے 80 پیسے کی کمی سے 226 روپے کی سطح پر بھی آگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں ڈیمانڈ قدرے بڑھنے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2.65 روپے کی کمی سے 226.15 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔

اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈیمانڈ نہ ہونے کے سبب ڈالر کی قدر 3 روپے کی کمی سے 226 روپے پر بند ہوئی۔

واضح رہے کہ بحیثیت ریگولیٹر مرکزی بینک نے ایکس چینج کمپنیوں اور بینکوں کی زرمبادلہ کی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کردی ہے اور متعدد ایکس چینج کمپنیوں و بینکوں کے فارن ایکس چینج آپریشنز کا معائنہ کرکے خلاف ورزی کے مرتکب شاخوں کی سرگرمیاں بھی معطل کی ہیں جس کے سبب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں منفی افواہیں پھیلا کر کی جانے والی سٹہ بازی رک گئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام مطلوبہ شرائط پورے ہونے کے بعد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری مل جائے گی اور جاری معاشی حکمت عملی کی بدولت آئندہ دو سے تین ماہ میں ڈالر کم ہوکر اپنے حقیقی قدر پر آجائے گا۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات کے پیش نظر وہ برآمد کنندگان جنہوں نے اپنی زرمبادلہ کی برآمدنی ہولڈ کی ہوئی تھیں وہ اب مارکیٹ میں بھنانے کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے مارکیٹ میں زرمبادلہ کی سپلائی بڑھ گئی ہے اور روپیہ کی قدر مستحکم ہوتی جارہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی ماحول اگر سازگار رہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی ہو تو ڈالر کی قدر مستقبل میں بھی قابو میں رہ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایکس چینج ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کرے اور پھر ملک میں غیر دستاویزی ڈالر کو دستاویزی بنانے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی طرز پر 8 فیصد شرح منافع کے ساتھ لوگوں کو ڈالرز اپنے بینک کھاتوں میں جمع کرانے کی ترغیبی اسکیم متعارف کرائے تو اربوں ڈالرز بینکاری نظام میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے سپلائی میں نمایاں اضافے سے ڈالر بڑی نوعیت کی قلابازیاں کھاسکتا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں کمی کے ساتھ ہی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بھی مثبت رجحان دیکھا جارہا ہے، 100 انڈیکس بڑھ کر 41 ہزار 500 کی سطح پر آگیا ہے جبکہ 474 پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.