مریم نواز کو اپناپاسپورٹ واپس مل گیا
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ سے اپنا پاسپورٹ وصول کرلیا۔
گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست منظور کی تھی جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی رہنما منگل کے روزعدالت عالیہ کے ایڈیشنل رجسٹرار آفس پہنچیں ۔
ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے پر مریم نواز کو 3 سال بعد ان کا پاسپورٹ واپس مل گیا۔
تحریری فیصلہ جاری
دوسری جانب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ نیب نے درخواست گزار کے پاسپورٹ کی واپسی کی مخالفت نہیں کی، عدالت کے پاس درخواست کی اجازت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا، نیب نے موقف اختیار کیا کہ مزید تفتیش یا ٹرائل کے مقصد کی کوئی ضرورت نہیں۔
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کرتی ہے، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کریں۔
پاسپورٹ کب ضبط ہوا تھا؟
مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہیں تھیں۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے 7 کروڑ روپے نقد جمع کرانے اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوانے کے بدلے مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔
مریم نواز نے لندن جانے کی غرض سے اپنا پاسپورٹ واپس حاصل کرنے کے لئے درخواست لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔ مختلف وجوہات کی بنا پر کئی مرتبہ درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ ٹوٹ چکے تھے۔
مریم نواز نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ درخواست دائر کی ۔ گزشتہ ماہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے اپنی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 3 رکنی بنچ تشکیل دیا جس نے بالاخر اس درخواست کی سماعت کی۔