خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، ربابہ بلیدی
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان اسمبلی میں ویمن پارلیمنٹرین فورم کی چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 12 فیصد افراد خصوصی ہوتے ہیں پاکستان میں خصوصی افراد کو معاشرے میں باوقار مقام دلانے کیلئے ہر طبقے کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا احساس پروگرام میں چار لاکھ خصوصی افراد کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے اور حکومت کی جانب سے 2 ملین خصوصی افراد کے لئے فی کس دو ہزار روپے کا وظیفہ مقرر کیا گیا ہے جس میں خاطر خواہ اضافے کی تجویزرکھی گئی ہے
دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں خصوصی افراد زیادہ پریشانی اور مصائب کا شکار ہیں جس کے تدارک کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات ناگزیز ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خصوصی افراد کو مساوی ترقیاتی مواقع دینا کسی بھی معاشرے کے صحت مند ہونے کی دلیل ہوتی ہے ہم سب کو خصوصی افراد کی مدد کیلئے عملی اقدامات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ خصوصی افراد کوتعلیم و تربیت کی بہترین سہولیات فراہم کر کے انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکتا ہے معاشرے میں خصوصی افراد کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے چیئر پرسن وویمن پارلیمنٹرین فورم ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ جسمانی طور پرمعذور افراد اپنی صلاحیتوں کی بدولت معاشرے کے وہ کارآمد افراد ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لئے نئی تاریخ رقم کی ہے اسٹفن ہاکنگ اس صدی کی ایک عظیم مثال ہیں
سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے معذوری اور مجبوری کے فرق کو واضح کردیا ہے خصوصی افراد کو اس سائنسی ترقی اور سہولت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ تمام سرکاری اور نجی عمارات میں خصوصی افراد کے لئے ریمپ بنائے جانے چاہئیں پاکستان بیت المال اور دیگر ادارے خصوصی افراد کو صرف وہیل چیئرز کی فراہمی تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے روزگار اور کاروبار کے لیے بھی مواقع پیدا کریں خصوصی افراد اپنے کاروبار کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کریں گے تو ملک میں معاشی انقلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کے لئے پہلی” ایپ ” متعارف کروادی گئی ہے جس میں بریلی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا جاسکے گا جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین ایک فورم پر اکٹھے ہوں اور اسپیشل ایجوکیشن کے خصوصی افراد کی تعلیم میں نئے تحقیقی پہلوو¿ں کو اجاگر کریں تاکہ پاکستان میں بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسپیشل افراد کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے اور ان کی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔