پاکستان کی موثر خارجہ پالیسی ہماری معاشی طاقت سے منسلک ہے، شاہ محمود قریشی
عوامی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کےلئے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل روشن پاکستان” اقدام” کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بہت سراہا اور ان کی طرف سے ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں ،انشا اللہ 19 دسمبر 2021 کو ہم او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں،وزیر خارجہ کا تقریب سے خطاب
لاہور (امروز ویب ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی موثر خارجہ پالیسی ہماری معاشی طاقت سے منسلک ہے،عوامی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کےلئے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل روشن پاکستان” اقدام” کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بہت سراہا اور ان کی طرف سے ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں ،انشا اللہ 19 دسمبر 2021 کو ہم او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں
۔ہفتہ کوسفرا کے اعزاز میں اسٹیٹ گیسٹ ہاس لاہور میں منعقدہ استقبالیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے سب کو تاریخی اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں آمد پر خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے احباب اسلام آباد سے یہاں تشریف لائے ہیں اور مجھے لاہور میں ان کی میزبانی کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔وزیر خارجہ نے لاہور سے استقبالیہ میں شرکت کرنے والوں کو بھی خوش آمدیدکیا۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے پبلک ڈپلومیسی اقدام کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہوں گا
جس کے باعث ہم سب یہاں اکٹھے ہوئے ہیں ،جب میں نے 2018 میں بطور وزیر خارجہ منصب سنبھالا تو میں وزارت خارجہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عزم لے کر یہاں آیا تھا، تاکہ وزارتِ خارجہ کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جا سکے ،ہمیں اس بات کا تعین کرنے میں کچھ وقت لگا کہ ہم ایک ادارے کے طور پر کہاں کھڑے ہیں؟ اور جدید سوچ کو بروئے کار لا کر ہم اس سفارت کاری کو کس حد تک آگے بڑھا سکتے ہیں ، چنانچہ میں نے دسمبر 2019 کو، وزارت خارجہ میں متحرک اور جدت طرازی کے جذبے کو ابھارنے کے لیے Vision FO، کے پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی ،اس وژن ایف او کے تحت ہم اپنی عوامی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں جس میں 3 اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے:
جن میں ڈیجیٹل، ثقافتی اور اقتصادی سفارت کاری،شامل ہیں ،اس سال ہم چین، تھائی لینڈ، سپین، جرمنی، ارجنٹائن اور فن لینڈ سمیت 6 ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن بھی منا رہے ہیں۔درحقیقت، ابھی حال ہی میں، ہم نے اسلام آباد میں جرمنی اور اسپین کے اپنے دوستوں کے ساتھ موسیقی اور ثقافت کی شاندار شاموں کی میزبانی کی اور آج، ہم نے پاکستان اور ارجنٹائن کی دوستی کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے لیے ایک زبردست پولو میچ کا مشاہدہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات کے 50 سال بھی منا رہے ہیں
۔انہوں نے کہاکہ اپنی ڈیجیٹل سفارت کاری کے اہداف کو آگے بڑھاتے کے لیے ، ہم نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیانیے کی موثر ترویج کے لیے اپنے 114 مشنز کو ڈیجیٹل بنانا اشد ضروری ہے ،اس مقصد کے لیے، ہمارا ہر ایک مشن اب فیس بک، انسٹاگرام اور ٹویٹر پر آن لائن ہے اور پاکستان کی بیانیہ سازی کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اقتصادی سفارت کاری کے اہداف کے حوالے سے، میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کی موثر خارجہ پالیسی ہماری معاشی طاقت سے منسلک ہے ،اس مقصد کے لیے، میں دنیا بھر میں تعینات پاکستان کے سفیروں کے ساتھ، اہم اقتصادی اہداف کا تعین کرنے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتا ہوں اور پھر یہاں اسلام آباد میں ان کے ہم منصبوں سے بھی باقاعدگی سے ملاقات کرتا ہوں، جن میں سے اکثر آج یہاں موجود ہیں۔شاہ محمود قریش نے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے
کہ ہمیں اس نقطہ نظر کے ساتھ بہت سے خطوں میں کافی کامیابی ملی ہے، ہماری Engage Africa پالیسی کے آغاز کے بعد سے ہماری تجارت کے حجم میں 7% اضافہ ہوا ہے۔المختصر پچھلے 2 سالوں میں ہے شمار اصلاحات اور تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں، ہم نے سیاحت کے فروغ کیلئے نئے ویزہ رجیم کو متعارف کروایا ہے تاکہ بیرون ملک سے لوگ پاکستان آئیں اور پاکستان کی ثقافت کو خود ملاحظہ کریں ، ڈیجیٹل روشن پاکستان” اقدام” کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بہت سراہا اور ان کی طرف سے ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں ،انشا اللہ 19 دسمبر 2021 کو ہم او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں
،یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کی مخدوش اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ہو گا تاکہ افغانستان میں پنپتے ہوئے انسانی بحران کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی جائے ،ایسا اجلاس پاکستان میں اکتالیس برس کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔اب میں آپ کو اس عمارت کی مختصر تاریخ سے آگاہ کرنا چاہوں گا، جو اب اسٹیٹ گیسٹ ہاس کے طور پر زیر استعمال ہے،یہ عمارت اصل میں 1889 میں پنجاب کی پرنسلے اسٹیٹس کے رہائشیوں کے سرکاری اور رہائشی استعمال کے لیےبرطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی، یہ برصغیر کی تقسیم تک اسی طرح استعمال میں رہی ،
جس کے بعد اسے پاکستان کی نئی تشکیل شدہ حکومت نے سنبھال لیا،ابتدائی طور پر اسے پنجاب بحالی کمشنر کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، وقت کے ساتھ ساتھ، اس میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور ایک مرحلے پر اسے CSP اکیڈمی میں تبدیل کر دیا گیا، جو 1972 تک کام کرتی رہی۔ اس کے بعد اسے وزیر اعلی ہاس میں تبدیل کر دیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 1974 میں، اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر، عمارت کو باقاعدہ طور پر اسٹیٹ گیسٹ ہاس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور آج یہ اسی طرح کام کر رہی ہے۔