حکومت میں کوئی اختلافات نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ بلوچستان کی امن کو تہہ تیغ کرنے والے بلوچوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ،دہشتگرد اندرون ہوں یا بیرون سیکورٹی فورسز کے جوان انہیں کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیںگے ،حکومت بلوچستان سیکورٹی فورسزکے ساتھ اور ہر فورم پر دفاع کریگی ،نوشکی میں 9دہشتگرد ہلاک جبکہ پنجگور میں آپریشن جاری ہے ،قومی میڈیا مس انفارمیشن پھیلانے سے گریز کریں ،بلوچستان آدھا پاکستان ہیں ،واقعات ہوتے ہیں تو لوگ صرف کوئٹہ سمجھتے ہیں
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے البتہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کے دروازے آخری وقت تک کھلے رہیںگے ، حکومت میں کوئی اختلاف نہیں جمہوری عمل میں آزادی اظہار رائے ہر کسی کا حق ہے لیکن ہر کسی کی سوچ ایک جیسی نہیں ہوسکتی ،3سالوں سے نظرانداز حکومتی واپوزیشن حلقوں کو فنڈز دئےے جارہے ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ چیزوں کو بہتری کی طرف لے جائیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعیت علماءاسلام (نظریاتی) کے دفتر کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر جمعیت علماءاسلام نظریاتی کے مولاناعبدالقادر لونی ،مولاناقاری مہراللہ ،مولاناسیدعبدالستار شاہ چشتی ،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ سید فدا حسین شاہ ودیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ جمعیت نظریاتی کے قائدین کی جانب سے عزت دینے پر مشکور ہیں جو دھماکہ ہوا وہ افسوسناک ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں یہ سب کی حکومت ہے اور عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے انسانی جانی نقصان کاازالہ تو نہیں کیاجاسکتا لیکن زخموں پر مرہم رکھاجاسکتاہے ،جمعیت نظریاتی نے دھرنے کا کال دیا لیکن ہم نے رابطہ کیا
اور ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ چیزوں کو بہتری کی طرف لے جائیں آج شہداءکی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کیلئے آیا ہوں بلکہ ان کا بھی شکریہ ادا کرناتھاکہ انہوں نے بہت ہی ذمہ داری کامظاہرہ کیا، بلوچستان کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرینگے ، انہوں نے کہاکہ ہم مسائل کے حل کیلئے تیار ہیں اس لئے سڑکوں پر آنے جیسے روایات اچھا نہیں ہے ،ہمارے دروازے کھلے ہیں ہم نے 17سال سے بند راستے کھول دئےے ،وی آئی پی روٹ بھی ختم کردیاہے ،شہروں گئے لیکن روٹ نہیں لگایا زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کسی کو تکلیف ہوں عام ٹریفک کی طرح ہم بھی جائیںگے ،ہم شوشہ نہیں چھوڑ رہے بلکہ ایک پیغام جائیں کہ ہم بھی عام لوگوں کی طرح ہیں
اور ہماری وجہ سے کوئی تکلیف میں مبتلا نہ ہوں ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر شروع ہوئی ہے ترتب میں بڑا واقعہ ہوا جس پر میں خود گیا آج فورسز کی قربانیوں کے بدولت پرامن صوبے میں رہ رہے ہیں ہمارے فورسز نے بہادری سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کرکے 9دہشت گرد نوشکی میں جبکہ پنجگور میں سرچ آپریشن جاری ہے فورسز نے جس طرح مقابلہ کیا یہ مقابلہ آج سے نہیں بلکہ ایک عرصے سے جاری ہے بلوچستان کے بہت سے علاقے نو گوایریاز تھے آج ہر جگہ لوگ جاسکتے ہیں یہ قربانیاں ہماری فورسز کی ہیں جس پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے بزدلانہ حرکت ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے ہم ان کے عزائم کو ناکام بنائیںگے
وزیراعلیٰ بلوچستا ن عبدالقدوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد تمام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دینے اور استصواب رائے کرانے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کی شروع سے حمایت کرتا ہے جو عالمی ادارے کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جاری کئے گئے اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ خطے میں امن کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے جب کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے، کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اور مسئلہ کشمیر حل کئے
بغیر امن ممکن نہیں، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بھارت کشمیرپرزبردستی قبضے کے ذریعہ کشمیری عوام کے حقوق کوپامال کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری عوام پر ظلم وجبر جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف بھارتی حکومتوں نے کشمیری عوام کے حق و انصاف کی جدوجہد کو دبانے کیلئے قوت کا بے دریغ استعمال کیا ہے اور موجودہ مودی سرکار نے تو آرٹیکل 370کو ختم کرکے کشمیر کو حاصل نام نہاد خودمختاری کا بھی خاتمہ کردیا اور اس پر کشمیریوں کے رد عمل کو چھپانے کیلئے علاقے میں مہینوں سے کرفیو کی صورتحال پیدا کررکھی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ بھارت کے مظالم کانوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کاحق خودارادیت دلوایا جائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی اخلاقی اورسفارتی حمایت کشمیریوں کوکل بھی حاصل تھی اورآئندہ بھی رہے گی،پاکستانی قوم کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے عوام بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہارمیں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اورہماری د±عائیں اوراخلاقی حمایت ان کے ساتھ ہے جلدکشمیرمیں آزادی کاسورج طلوع ہوگا۔