بچی کی پیدائش پر بیوی کو زندہ جلا دینا دور جاہلیت کی نشانی ہے : ثمینہ زہری

0 47

کوئٹہ : سینیٹر ثمینہ ممتاز ہری نے پنجاب کے علاقے کو ٹ شیخو میں بچی کی پیدائش پر بیوی کو زندہ جلا کر مار دینے کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اس دلخراش واقعے پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بیٹی کی پیدائش پر اتنے شدید ردعمل جیسے واقعات کا بڑھنا تشویشناک ہے افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ذہنی طور پر بیمار لوگ موجود ہیں انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ دنیا اکیسویں صدی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم لوگ کہاں بھٹک رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیٹی کی پیدائش پربیوی کو جلانے کے واقعے کے ردعمل پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہاکہ اسلام نے دنیا میں آکر جہاں اور بہت سی چیزوں کو ناپید کیا وہیں اس ظلم کو جڑ سے اکھاڑ کرپھینکا ہے اور بچوں کے ساتھ اچھے سلوک کو ماں باپ کے لیئے اللہ کی رحمت اور حصول جنت کا ذریعہ بنایا اورنبی آخر الزماں حضر ت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد مرتبہ مذکورہ ظلم کے خلاف مسلمانوں کو بچیوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے برتاو¿ کی تاکید فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں خاص طور پر بچی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے ایسے گھرانے بھی دیکھے جاتے ہیں جہاں اگر بیٹی پیداہوجائے تو بڑی بوڑھی عورتیں رونے اور ماتم کرنے بیٹھ جاتی ہیں جس کی اصل وجہ علم کی کمی اور معاشرے کی خرابی ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ آج کے اس جدید دورمیں بھی ہمارے معاشرے میں ایسے بے حس اور بم شرم لوگ ہیں لوگ ہیں جو پتھر کے دور اورزمانہ جاہلیت جیسی زندگی گزار رہے ہیں جہاں عورت کو کوئی عزت و مقام حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیر و برکت والا مہینہ شروع ہوچکا ہے اور اپنی ڈھیروں برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ ہم تک آ پہنچا ہے اور یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ اپنی زندگی میں دوبارہ رمضان المبارک کے روزے اور عبادات نصیب ہوئیں اس ماہ مبارک میں ہم سب کو یہ عہد کرنا ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے گا اپنے معاشرے کے لوگوں کو صراط مستقیم اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تلقین کریں گے اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ اسلام نے عورت کو عزت و اہمیت دی اور اس کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دنوں پہلے باپ کی جانب سے نوزائیدہ بیٹی کو گولی مارنے کا دلخراش واقعہ رونما ہوا تھا اور دل ابھی تک اس غم سے نڈھال تھا کہ بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو زندہ جلا کر مار دینے کا ناقابل قبول واقعہ رونما ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث افراد عبرت ناک سزا کے مستحق ہیں ۔ انہوں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے اپیل کی کہ ان واقعات میں ملوث مکروہ لوگوں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ وہ معاشرے کے لئے عبرت کا نشان بن جائیں اور پھر کسی کو اس قسم کی گندی و مکروہ حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.