واشک میں صحت کی سہولیات کا فقدان، سرکاری ایمبولینسیں ناکارہ ہوگئیں
واشک میں صحت کی سہولیات کا فقدان چالیس ہزار نفوس آبادی سرکاری ایمبولینس کی سہولت سے محروم پی پی ایچ آئی کی کارکردگی عوام کے لیئے فائدہ مند نہ ہو سکی تفصیلات کے مطابق چالیس ہزار نفوس آبادی پر مشتمل ضلع واشک کے ضلعی ہیڈکواٹر واشک کے باسی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں واشک ہیڈکواٹر کے لیئے تین ایمبولنس دیئے گئے ہیں مگر تینوں ایمبولنس خراب ہو ناکارہ ہیں اور غریب مریض تینوں ایمبولنس سے مستفید نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ تینوں ایمبولنس میں سے ایک ڈریﺅر جبکہ دوسرا ڈپٹی کمشنر آفس تیسرا اسپتال میں خراب حالت میں پڑہ ہے جبکہ غریب مریض پک اپ اور زامیاد گاڑیاں بھاری بھر کرایہ پر حاصل کرکے اپنے مریضوں کو کوئٹہ خاران اور خضدار علاج لینے پر مجبور ہیں کرایہ پر حاصل کرنے والے زامیاد اور پک اپ گاڑیوں میں آکسیجن و دیگر سہولیات میسر نہیں ہوتی جس سے مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں دوسری جانب محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے واشک ہیڈکواٹر کے تینوں ایمبولنس کی مرمت اور تیل کی مد میں بھاری بھر فنڈذ آتے ہیں مگر نہ جانے وہ فنڈز زمین نگل جاتی یا آسمان کھا جاتی ہے واشک کے سماجی حلقوں نے صوبائی حکومت کے ذمہ داراں چیف سیکرٹری بلوچستان سیکرٹری محکمہ صحت ایم پی اے واشک و دیگر زمہ داراں سے فوری نوٹس لیکر واشک ہیڈکواٹر کے لیئے مختص تین ایمبونس کی حالت کو بہتر بنا کر انھیں مریضوں کے استعمال میں لانے کے لیئے اقدامات اور پی پی ایچ آئی واشک کی غفلت و ناقص کارکردگی کا نوٹس لیں ۔