بلوچ خواتین کی ماروائے آئین گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں،این ڈی پی

0 153

کوئٹہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں جہاں انسانی حقوق کو بالائے تاک رکھتے ہوئے ماروائے آئین جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری تھا وہیں بلوچ خواتین کو چادر و چاردیوالی پامال کر کے اغوا کرنا غیر اخلاقی و غیر انسانی فعل ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ بولان کے علاقوں میں آپریشن جاری تھا مگر آپریشن کی آڑھ میں بلوچ ننگ و ناموس کو پامال کرتے ہوئے درجن کے قریب نہتے خواتین اور بچوں کو اغوا کیا گیا جوانسانی بنیادی حقوق کے منافی عمل ہے۔ اگر کسی خاتون پر کوئی الزام ہوتا ہے تو  لازمی ہے کہ خواتین اہلکار ہی انہیں گرفتار کر کے اپنی نگرانی میں رکھیں اور انہیں مکمل انصاف کی رسائی کا موقع دے کر وکیل سے رابطہ رکھنے اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔ یوں آپریشن کی آڑھ میں درجن بھر خواتین کو اغوا نما گرفتار کر کے  نا معلوم مقام پر رکھنا غیر انسانی فعل ہےجس کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہوئے انہیں با عزت طریقے سے فوری طور رہا کرنے کا مطالبہ رکھتے ہیں۔کسی بھی شخص کے لئے  اس کی سب سے بڑی عزت ان کی چادر و چار دیواری سمیت  ان کے خواتین و بچوں کی عزت ہوتی ہے لیکن بلوچ پر ہونے والے ظلم و جبر اس نہج تک پہنچ چکی ہیں کہ بلوچ خواتین بچے بھی محفوظ نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ان پالیسیوں پر نظر ثانی  کیا جائے وگر نا  اسکا انجام کسی کے لئے بھی نیک شگون نہیں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.