بلوچستان حکومت نے چند ماہ میں قابل ستائش فیصلے کیئے ہیں ، عظیم کاکڑ

0 128

خضدار(امروز نیوز) بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار میں بلوچستان کی تاریخ کا منفرد وتین روز ہ ماڈل یونائیٹڈنیشن کانفرنس منعقد ہوئی ،کانفرنس کے مہمانِ خاص وزیراعلیٰ بلوچستان کے فوکل پرسن برائے انفارمیشن ومیڈیا افیئرز محمد عظیم کاکڑ تھے ۔ جنہوںنے تین روزہ کانفرنس کا افتتاح اور بعدازاں خطاب کیا ۔یہ کانفرنس، یونائیٹڈنیشن ہیومن رائیٹس کونسل ، یونائیٹڈنیشن جنرل اسمبلی ، پاکستان نیشنل اسمبلی پر مشتمل کمیٹیزکے اشتراک سے منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کا مقصدخضدارکے طلباءکو انٹرنیشنل ، اور قومی مسائل کے حوالے سے آگاہی دینا، ان مسائل پر سیر حاصل بحث کرنااور کمیونیکشن استعدکار میں بہتری لانا تھا ،تین روزہ کانفرنس کے موقع پر غیر رسمی اسمبلی کا انعقاد بھی کیا گیا ، جس میں طلباءنے سوالات اٹھائے اور دوسری سمت سے ان کے جوابات دیئے گئے ، کانفرنس میں مختلف تقریبات منعقد کیئے گئے ۔تین روزہ کانفرنس میں ججز کوئٹہ اور کراچی سے مدعوکیئے گئے تھے ۔ جنہوںنے کانفرس کو کامیاب اور طلباءکی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظہر قرار دیدیا ۔کانفرنس میں رجسٹرار جلال احمد شاہ ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن انجینئر رضاءزہری ، ڈین بی یو ای ٹی سید علی رضاءشاہ ، سمیت دیگرمہمانوں کی کثیرتعداد موجو د تھی ۔کانفرنس سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے فوکل پرسن محمد عظیم کاکڑ ، خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے پروائس چانسلر ڈاکٹر سید مشتاق احمد شاہ ، انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالب علم و کانفرنس کے ایگزیکٹو ،اورماڈل یونائیٹڈنیشن کے صدر محسن حسن ، جنرل سیکریٹری سرفراز علی ، ڈائریکٹر رجسٹریشن حبیب الرحمن، میر عدنان دلوش ، سیدہ حفصہ بخاری نے خطاب کیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے فوکل پرسن محمد عظیم کاکڑ کا کہنا تھا کہ کہ بلوچستان حکومت نے چند ماہ کی مختصر مدت میں تاریخی اور قابل ستائش فیصلے کیئے گئے ہیں ، یہ تمام تراقدامات صوبہ اور اس صوبے کے عوام کی وسیع تر مفادات کو مد نظر رکھ کر عمل میں لائی گئی ہیں ، جن کے دور رس فائدے اوراس کے اچھے و مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ حکومت بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لا کر تعلیمی ترقی معیار و میرٹ اور ماحول میں کافی حدتک اضافہ کیا ہے ، جس میں 1720اساتذہ غیر حاضر اساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند کرنے کا موثر اقدام، پی ٹی ایس ایم سی کے ذریعے 1673اسکولوں میں پروگرام کا آغاز ، 4337سکول حکومت بلوچستان کے پہلے ہدف میں شامل کرنا ، محکمہ تعلیم کے 300ملازمین اور اساتذہ کی انکوائری کرنا ، ہر یونین کونسل میں ایک ماڈل سکول کا قیام ، کل اسکولوں میں 7237سکولوں کو بہتر بنانے کا عزم ،16اساتذہ کو ملازمتوں سے برخاست کرنا یہ اقدامات تعلیم کی بہتری کے لئے عمل میں لائے گئے ۔ اسی طرح شعبہ صحت میں صوبائی کابینہ نے بلوچستان مینٹل ہیلتھ ایکٹ ، 2019کی منظوری دی ، بلوچستان ہیئر کیئر کمیشن بل 2018کابینہ سے منظوری ، ٹریژری کیئر ہاسپیٹل بل 2018کابینہ سے منظوری ، ہیلتھ پالیسی 2018تا2030کا قیام ، کمشنرز کے زیر نگرانی بلوچستان ڈرگ رولز 2018کا قیام ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی زیرنگرانی رینجل کوالٹی کنٹرول بورڈ کا قیام ، صحت کی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے کنٹریکٹ بنیادوں پر 500ڈینٹل سرجن ، میڈیکل آفیسرز ، اور اسٹاف نرسز کی بھرتی کافیصلہ و کابینہ سے منظوری لی گئی ۔اسی طرح دیگر تمام تر محکموں میںاصلاحات و اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں ، آنے والے سالوں میں مذید قانون سازی اور عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر اقدامات عمل لائے جائیں گے ۔ جس سے تمام اضلاع میں ترقیاتی امور مساوات اور برابری کی بنیاد پر پروان چڑھائے جائیں گے اور لوگوں کو مذید سہولیات ملیں گی ۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید مشتاق احمد شاہ کا کہنا تھاکہ طلباءکی جانب سے اس طرح کا ایونٹ منعقد کرنا اور اس میں دیگر اسٹوڈنٹس کے استعدد کار میں اضافہ قابل ستائش ہے یقینا اس سے ان کی صلاحیتیں مذید بڑھیں گی اور ان کے تجربے میں مذید اضافہ دیکھنے میں آئے گا ، انہی اسٹوڈنٹس کو فارغ التحصیل ہو کر زندگی کی عملی میدان میں جانا ہے جہاں انہیں ہر شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دینا ہے اس طرح کے کانفرنسز کا انعقاد اور اس میں غیر رسمی اسمبلی منعقد کرنے سے انہیں اور زیادہ سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے ۔ کانفرنس میں مہمانوں کی شرکت او رطلباءکی دلچسپی پر ماڈل یونائیٹڈ نیشن کے صدر محسن حسن ، جنرل سیکریٹری سرفراز علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ طلباءکی جانب سے تاریخی اور منفرد کانفرنس کے انعقاد سے نہ صرف ہمارے حوصلے برھے ہیں بلکہ اس سے طلباءکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے تین دنوں مشتمل اس کانفرنس سے طلباءنے بہت کچھ حاصل کیا اور ان کے تجربے میں کافی اضافہ ہوا ہے انہوںنے کہاکہ جوطلباءہمارے ساتھ معاون بنے اور یا جن مہمانوںنے اس کانفرنس میں شرکت کرکے کانفرنس کی کامیابی کا ذریعے بنے ہم ان سب کا تہہ دل سے مشکور ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.