انڈیا سے اسمگل شدہ ادویات سر عام میڈیکل سٹوروں پر فروخت ہوتے ہیں

0 149

کوئٹہ(امروز نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیر معیاری اور انڈیا سے اسمگل ہوکر آنے والی ادویات سرعام میڈیکل سٹوروں پرفروخت ہونے لگی جس سے مریض تندرست ہونے کی بجائے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان ہیلتھ انسپیکشن ٹیم اور ڈرگ انسپکٹرزخاموش تماشائی بن گئے اور غیر معیاری ادویات کی بجائے جلد گورا کرنے والی کریمیںیونانی اور ہومیو پیتھک ادویات پکڑنے لگی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں غیر معیاری اور بھارت سے اسمگل ہوکرکوئٹہ پہنچنے والی ادویات سرعام میڈیکل سٹوروں پرفروخت ہورہی ہیں جس سے مریض تندرست ہونے کی بجائے مزید بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے جبکہ کوئٹہ شہر کے کسی بھی میڈیکل سٹور پر فارماسٹس موجود نہیں ہے اور میٹرک پاس نوجوان مریضوں کو ادویات فروخت کرتے نظرآتے ہیںاوردوسری طرف شہر کے گنجان آباد علاقوں میں قائم لیبارٹریز پر بھی کوئی ڈاکٹر یا متعلقہ شعبے سے وابستہ افراد موجود نہیں ہوتے وہاں بھی ان پڑھ اور چند ہزار روپے لیکر کام کرنے والے غیر متعلقہ افراد اٹیسٹ کررہے ہیں جو شہریوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے لیکن ڈرگ انسپکٹر انکے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ہیلتھ انسپیکشن ٹیم اور ڈرگ انسپکٹرغیر معیاری اور بھارت سے اسمگل ہوکرآنے والی ادویات اوربغیر ڈاکٹروں کے چلنے والی لیبارٹریزکے خلاف کارروائی کی بجائے جلد گوراکرنے والی کریمیں ،یونانی اور ہومیو پیتھک ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے لگے شہریوں اور دکاندروںنے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان،صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر میںغیر معیاری ادویات اور بغیر ڈاکٹرز کے چلنے والی لیبارٹریز کے خلاف کارروائی کرکے احکامات جاری کریں گے اور وزیراعلیٰ ہیلتھ انسپیکشن ٹیم کے غیر تسلی بخش کام کا ازخود نوٹس لیں تاکہ شہریوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ممکن ہوسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.