بلوچستان گندم کی ترسیل پر3ماہ سے پابندی ، آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا
کوئٹہ : بلوچستان میں گندم پر عائد پابندی کی وجہ سے آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا جبکہ سینکڑوں فلور ملز بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے، مختلف اضلاع میں عوام آٹے کی100کلوگرام 8ہزار سے 10ہزار جبکہ 50 کلو گرام 4ہزار سے ساڑھے 4ہزار روپے تک خریدنے پر مجبور ہیں، محکمہ خوراک بلوچستان نے 3ماہ سے نصیر آباد زون سے تمام بلوچستان کو گندم کی فراہمی پر پابندی عائد کررکھی ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسٹم ایف سی لیویز اور پولیس کے ساتھ مل کر گندم کوسندھ لے جانے پر کھلی چھوٹ دی گئی ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے کر عوام کو آٹے کی بحران سے چھٹکارا دلائیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں ایک بار پھر آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے محکمہ خوراک بلوچستان کی جانب سے صوبے کے گرین زون نصیر آباد ،جعفر آباد، جھل مگسی سے بلوچستان کے دیگر تمام اضلاع کو گندم کی ترسیل پر دفعہ 144کے تحت مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ میں آٹے کی قلت پیدا ہو گئی ہے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع کی عوام آٹے کی100کلو گرام 8ہزار سے 10 ہزار جبکہ 50 کلو گرام کی بوری 4ہزار سے ساڑھے 4 ہزار روپے تک خریدنے پر مجبور ہیں مہنگائی کے اس دور میں ایک طرف اشیا خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے جبکہ دوسری جانب محکمہ خوراک کی نااہلی کا یہ حال ہے کہ 3 ماہ سے نصیر آباد زون سے تمام بلوچستان کو گندم کی فراہمی پر پابندی عائد کی گئی ہے اور کسٹم ایف سی لیویز اور پولیس انتظامیہ کے ساتھ مل کر گندم کی سندھ لے جانے پر کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ گندم کی ترسیل پر پابندی سے ایک طرف عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب فلور ملز بھی بند ہو رہے ہیں سال 2021 کے دوران 6 فلور ملز بند ہو کر کباڑ میں تبدیل ہو گئے ۔ سال 2022 کے ماہ اپریل مئی اور جون تک بلوچستان میں محکمہ خوراک کی جانب سے دفعہ 144 میں اب تک صرف 2 لاکھ گندم خریدی گئی ہے جو محکمہ خوراک کی نااہلی ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے کر عوام کو گندم کے بحران سے چھٹکارا دلائیں بصورت دیگر سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔