حکومت صرف دعوﺅں تک محدود ہے، سردار اختر مینگل
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں اختلافات نہیں البتہ اختلافات وہاں ہوتے ہیں جہاں چاول کا دیگ تقسیم ہو رہاہوں ،وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا ہے ،بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے آج بھی صوبے کے اکثریت اضلاع محروم ہیں ،بلوچستان اسمبلی میں ریکوڈک سے متعلق قرارداد کی منظوری یہ ثابت کرتی ہے کہ اپوزیشن حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل لوٹنے کی اجازت نہیں دینگے
۔گوادر دھرنے کے شرکاءکے مطالبات ادھورے ہیں حکمران صرف دعوﺅں تک محدود ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ بی این پی پی ڈی ایم کے ساتھ ہے مرکزی قیادت کی جانب سے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کیاجائے گا،بلوچستان نیشنل پارٹی جمہوریت کی بحالی کیلئے پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم میں اختلافات کا بیان ہے لیکن اس سلسلے میں عرض ہے کہ اختلافات وہاں ہوتے ہیں جہاں چاول کا دیگ تقسیم ہورہاہو پی ڈی ایم کے پاس نہ وزارتیں ہیں اور نہ ہی کوئی اور مسئلہ ہے
حکومت کے اندر خود اختلافات ضرور ہیں حکومتی صف میں موجود کبھی ایک پارٹی ناراض ہوتی ہے تو کبھی دوسری پارٹی ناراض ہوجاتی ہے پی ڈی ایم نے جمہوریت کی بحالی کیلئے جو تحریک شروع کی ہے انشاءاللہ وہ کامیاب ہوگی ریکوڈک کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سردار اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ ریکوڈک، سیندک ، سوئی گیس یا گوادر میگا پروجیکٹ ہو وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا ہے بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے 70برسوں سے بلوچستان سے گیس نکل رہاہے ملک کے کونے کونے تک پہنچ گیا
لیکن بلوچستان کے اکثر علاقے گیس سے محروم ہے بلوچستان اسمبلی کی جانب سے ریکوڈک پر قرار داد کی منظوری اس بات کی دلیل ہے کہ اپوزیشن حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل کو مزید لوٹنے کی اجازت نہیں دے گی گوادر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گوادر دھرنے کے حوالے سے وزراءکا موقف ہے کہ مطالبات مان لیے گئے ہیں لیکن وہاں احتجاج کرنے والے عوام کا موقف ہے کہ کوئی مطالبہ حل نہیں ہوا ہے بارڈر ٹریڈ کی بحالی کی بات کی گئی لیکن گوادر میں پینے کے صاف پانی بڑے بڑے ٹرالروں کے سبب وہاں کے مچیروں کی استحصال سمیت ان کے تمام جائز مطالبات ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں
جبکہ حکمران دعوے کرتے ہوئے نہیں تکتے بلوچستان میں آئے روز اغواءنما گرفتاریوں اور لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوا ل کے جواب میں کہا کہ نہ تو بلوچستان یونیورسٹی سے اٹھائے گئے طلباءکو بازیاب کرایاگیاہے اور نہ ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے کہ بلوچستان کے کسی کونے سے لاشیں نہ ملی ہوں آج بھی پنجگور سے لاشیں برآمد ہوئی ہے یہ زوراور قوتیں خود کوآئین سے بالادست سمجھتے ہیں اس لئے بلوچستان میں اغواءنما گرفتاریوں اور لاشوں کی برآمدگی کوئی نئی بات نہیں بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حوالے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ حکمرانوں کو بلوچستان کے وسائل سے سروکار ہے۔