سیاسی بحران میں وکلا عدلیہ کی آزادی و ملک کے مفاد میں متحد رہے : امان اللہ کنرانی

0 27

کوئٹہ : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں سپریم کورٹ پاکستان کے چاروں وفاقی اکائیوں میں سے پانچ معززججوں پر مشتمل لارجربنچ نے بدھ کے روز تاریخ ساز فیصلہ دے کرنظریہ ضرورت کے سابقہ ادوار میں مولوی تمیزالدین کے کیس میں جسٹس منیر کے 1955 کا فیصلہ اور 2000 میں سید ظفرعلی شاہ کے کیس میں جسٹس ارشاد حسن خان کا فیصلہ زمین برد کرکے قوم و ملک کے لیے آنے والے وقتوں میں نظریہ ضرورت کے باب کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 3.4.22 کو اتوار کے دن جس سرعت سے آئین شکنی کا از خود آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت نوٹس اور نہایت انتھک محنت و رمضان کے بابرکت مہینے میں تمام علت و عذرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی عرق ریزی و انہماک سے مختصر ترین مدت 4 دن کے اندر فیصلہ کرکے دنیا کی تاریخ میں ایک نئے باب کو رقم کیا ہے جس سے عدلیہ و ملک کا وقار بلند ہوا ہے ایسے موقع پر عوام کے اجتماعی مفاد میں جراتمندانہ فیصلوں کی نظیر دنیا میں کم ملتی ہے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ سمیت پوری سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کے اجتماعی ذھنی و سوچ و فکر و قانونی و آئینی ذمہ داریوں کے مربوط احساس و ادراک اور انکے ذمہ دارارنہ کردار و ذمہ داری و رویوں کے باعث ملک میں ایک متحرک و موثر عدلیہ کے ذریعے انصاف کی نئی راہیں کھلی ہیں اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد کے اندر اضافہ ہوا ہے ہر جج اپنے ساتھی کے علم و فھم و ادراک سے متاثر ہوکر آئین و قانون کے تحفظ و بالادستی میں اپنا کردار میں پرعزم ہوکر نئے جذبے سے بے خوف انصاف کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں اس سلسلے سپریم کورٹ کے سینئیر جج ترین جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ساتھی جج صاحبان کی جراتمند کردار سے ملک کے عوام کو جو ایک امید بندھی ہے اس کے ثمرات و اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں عدالت عظمی ھمارا اثاثہ و روشن مستقبل کی ضامن ہے یقیناایسے فیصلوں سے ایک نئے صبح کے طلوع کا عدالت عظمی میں کرنیں پھوٹنا باعث مسرت ہے اور یہ عمل پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا انشااللہ عوام کو یہ تاریخی فتح مبارک ہے بار کے اداروں و سینئر وکلا کی قومی معاملات میں قوم کی رہنماء و عدالت کی معاونت سے عدالتیں اپنے آپ کو توانا محسوس کرتی ہیں اور ان کو حوصلہ و پزیرائی سے ان کے اندر ایک فیصلہ کن فیصلوں کی راہ ھموار کرتا ہے تمام بار کے و نمائندے و سینئیر مبارک بادکے مستحق ہیں جس میں پوری وکلا برادری اجتماعی سوچ و آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی و عدلیہ کی آزادی و ملک کے مفاد میں متحد رہی۔ اس موقع پر صحافی برادری کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے جس نے الیکٹرک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے زرئیعے قوم کے شعور کو اجاگر کیا اور متحرک بنانے میں اپنا کردار بھرپور و موثر ادا کیا جو قابل فخروتحسین ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.