مستونگ ، نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام انوار جان کھیتران کے قتل کیخلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

0 147

(امروز نیوز)
مستونگ :نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار مستونگ کے زیر اہتمام سوشل ایکٹوسٹ انور جان کھیتران کے بہمانہ قتل کے خلاف پریس کلب مستونگ کے سامنے بھرپور احتجاج کی گئی اس موقع پر نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر نواز بلوچ صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن آغا فاروق شاہ ضلعی نائب صدر حاجی نزیر آحمد سرپرہ۔ میر سکندر خان ملازئی۔ بی ایس او پجار مستونگ کے زونل صدر ناصر بلوچ اور مرکزی کمیٹی کے رکن بابل ملک بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے شہید انور جان کھیتران کے بہمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان میں ایک سیاسی ونجارہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ اور ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے لوگوں کی زبان بندی کے لیے قتل جیسے گھناونی اقدامات کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں انھوں نے کہا اس صورتحال سے حواس باختہ یہ سیاسی ونجارہ دہشت گردی پہ اتر آیا ہیے اور سیاسی سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور سوشل ایکٹوسٹس کے خلاف بزدلانہ کارواہیوں کا ارتکاب کررہی ہیے انور جان کھیتران کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیے جس کے خلاف نیشنل پارٹی بارکھان سے گوادر تک سراپا احتجاج ہیے انہوں نے کہا کہانور کھیتران کے قتل میں ملوث نام نہاد سردار نے اسمبلی فلور پر جو جھوٹ اور الزامات لگائیں ان کی تحقیقات ہونے چاہئے اور ان ہزاروں نوجوانوں کے قتل کے بھی تحقیقات ہو جن کے قاتل نامعلوم ہے ان کے قتل کے ذمہ دار بھی وہاں کے سالوں سے سیلیکٹ ہونے والے اسمبلی نمائندہ و نامزد ملزم ہے ۔ نیشنل پارٹی ایسے افراد کے خلاف انتقامی کاروائی کا الزام سراسر زیادتی و سیاسی بغض ہے جس سے واضح ہوتا ہے کے موصوف نیشنل پارٹی سے خائف اور اس کے ورکرز کے اغواء و قتل کے سازش کررہے ہیں ہمارا مطالبہ ہیے کہ ایف آئی آت میں نامزد سلیکٹڈ وزیر سے وزارت واپس لیکر ان سمیت تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کی جائے ڈی سی اور ایس پی بارکھان کو فوری طورپر تبدیل کرکے غیر جانبدار انتظامیہ تعینات کی جائے۔ مقررین نے واضع کیا کہ نیشنل پارٹی فرسودہ قبائلی نظام کے پیداوار روایتی قوتوں کو بہت جلد گھروں تک محدود کرکے رہیے گی اس بوکھلاہٹ کی بدولت آقا ڈھونڈ رہیے ہیں یا دہشت گردی کا سہارا لے رہیے ہیں مقررین نے شہداۓ 8 اگست کو بلوچستان کا سیاہ دیتے ہوئے کہ 8 اگست کو جس طرز کا ظلم و بربریت کیا گیا اس حوالے سے ریاستی خاموشی المناک و انسانیت سوز ہے اس دن بلوچستان سے نامعلوم دشمن نے بلوچستان سے اس کا حال و مستقبل چھینے کی کوشش کی جس کے ہم بھرپور مزمت کرتے ہیں۔۔۔مقررین نے سانحہ آٹھ اگست کے شہید وکلا کو زبردست خراج عقیدت پیش کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.