افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران بچھڑنے والا دوماہ کا بچہ والدین کو مل گیا

افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران بچھڑنے والا دوماہ کا بچہ والدین کو مل گیا

بچہ ٹیکسی ڈرائیورکو پاس تھا،سات ماہ کے مذاکرات کے بعد پولیس نے لیکراصلی خاندان کے حوالے کردیا
کابل (امروز ویب ڈیسک)افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران اپنے والدین سے بچھڑنے والا دو ماہ کا بچہ سہیل بالآخر اپنے خاندان کو مل گیا ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ سال19 اگست کو امریکی انخلا کے دوران کابل ائیرپورٹ پر افغان شہریوں کے امریکا روانگی میں افرا تفری کی وجہ سے دوماہ کے بچے سہیل احمدی کو اس کے والدین نے امریکی فوجی کے حوالے کیا۔

تاہم جب سہیل کے والدین افغانستان سے نکلنے کیلئے امریکی پرواز میں داخل ہوئے تو انہیں ان کا بچہ نہیں ملا اورکافی دیر کی تلاش کے بعد والد مرزا علی احمدی، جو امریکی سفارت خانے میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے، والدہ ثریا اور ان کے چار دیگر بچوں کو پرواز کے ذریعے امریکا بھیج دیا گیا۔والدین کو مہینوں تک کچھ معلوم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کہاں ہے؟ تاہم نومبر میں انہیں اپنے بیٹے کی تلاش کے بارے میں برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں معلوم ہوا کہ سہیل افغانستان میں 29 سالہ حامد صافی نامی ٹیکسی ڈرائیور کے پاس ہے۔جب سہیل کے ٹھکانے کی تصدیق ہوئی

تو بچے کے دادا محمد قاسم رضاوی، جو شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں رہتے ہیں، بچے کو لینے لیے روانہ ہوئے۔صافی نے بتایا کہ انہیں سہیل کابل ائیرپورٹ پر اکیلا زمین پر روتا ہوا ملا جسے وہ اپنے گھر لے گئے ۔صافی کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ سہیل کے والدین کی تلاش تک وہ اسے اپنے بچے کی طرح پالیں گے جبکہ انہوں نے شیر خوار بچے کا نام محمد عابد رکھا اور فیس بک پر ایک ساتھ تمام بچوں کی تصاویر پوسٹ کیں۔

صافی نے بچے کو اس کے دادا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بھی امریکا منتقل کیا جائے۔رپورٹس کے مطابق7 ہفتوں کے مذاکرات کے بعد طالبان پولیس نے دونوں خاندانوں کے درمیان معاہدے کروایا اور بچے کو ہفتے کے روز اس کے دادا کے حوالے کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں