مکران ہائی وے: بحیرۂ عرب کے کنارے جنوبی ایشیا کی سب سے دلکش شاہراہ

0 39

مکران کوسٹل ہائی وے وہ راستہ ہے جس پر کسی زمانے میں سکندر اعظم کی فوج چلی تھی اور جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے دلکش راستہ سمجھا جاتا ہے۔

وسطیٰ کراچی سے 30 کلومیٹر مغرب میں صوبہ بلوچستان کی سرحد پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی فورس کے ارکان میرا انتظار کر رہے تھے۔ اے کے 47 سے لیس یہ فوجی میرا پاسپورٹ اور این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) چیک کرنے کے لیے گاڑی کے پاس پہنچے۔

یہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ وہ اجازت نامہ ہے جو غیر ملکیوں کو ملک کے حساس علاقوں میں سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب وہ مطمئن ہو گئے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو میں اپنے گائیڈ اور انسداد دہشت گردی فورس کے ارکان کے قافلے کے ساتھ مکران ساحل کی طرف روانہ ہوا، جو سڑک کے ذریعے ایرانی سرحد کی جانب میرے سفر کا نقطہ آغاز تھا۔

میرے گائیڈ، امیر اکرم نے بتایا کہ ‘کئی دہائیوں سے مکران، بلکہ پورے بلوچستان میں نہ صرف غیر ملکی باشندوں بلکہ صوبے سے باہر کے پاکستانیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔‘

امیر اکرم کا کہنا تھا کہ ’پہلے میں علیحدگی پسند تحریک اور علیحدگی پسندوں کی وجہ سے یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔. لیکن آج کل بلوچستان پر فوج کا کنٹرول ہے۔ ہم محفوظ ہیں۔‘

امیر اکرم کا کہنا تھا کہ حفاظتی تفصیلات کے ساتھ سفر کرنا صرف ایس او پی یعنی معیاری آپریشنل طریقہ کار ہے۔ مکران کے ساحل کو دیکھنے کا یہ واحد راستہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو پورے پاکستان کے سب سے خوبصورت، ثقافتی لحاظ سے دولت مند اور پر جوش اور دوستانہ خطوں میں سے ایک کی جھلکیاں دکھاؤں۔

ہم یہ کام نیشنل ہائی وے 10 پر چلتے ہوئے کریں گے جسے عرف عام میں مکران کوسٹل ہائی وے کہا جاتا ہے۔ یہ بلوچستان کے جنوب میں 584 کلومیٹر کا راستہ ہے جو ایران کی سرحد پر ختم ہوتا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ ڈرامائی راستے کے طور پر مشہور ہے۔

مکران کوسٹل ہائی وے کا زیادہ تر حصہ بحیرۂ عرب کے کنارے کنارے چلتا ہے، اس کے چمکیلے نیلگوں پانی میں مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں سارڈین، کیکڑے اور لابسٹر کی تلاش میں نکلتی ہیں۔

اکرم نے مجھے بتایا ‘ماہی گیری صدیوں سے مکران کی معیشت کی بنیاد رہی ہے۔ ‘مکران’ کا نام بذات خود ‘مچھلی کھانے والے’ کے فارسی لفظ سے بنا ہے۔ یہ پیشہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے لیکن مقامی لوگ دیگر صنعتوں میں بھی کام کرتے ہیں، جیسے کہ جہاز توڑنا اور یہاں تک کہ سمگلنگ بھی۔‘

کراچی سے تقریباً دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہم اس شاہرہ کے ساتھ پہلی اہم منزل اور پاکستان کے سب سے بڑے اور ناہموار ہنگول نیشنل پارک پہنچے، جہاں تیز سمندری ہوائیں، شدید گرمی، سمندری طوفان سے ہونے والی بارشوں کے باوجود اس کے غیر حقیقی قمری مناظر مکران کی انتہائی خوبصورت تصویر بناتے ہیں۔

پارک کے دائرے کے بالکل اندر، ایک کھردرا راستہ ہمیں ایک نایاب اور عجیب و غریب ارضیاتی دامن تک لے گیا – آتش فشاں کا ایک جوڑا جو ہر سال لاوے کے بجائے کیچڑ اگلتا ہے۔

زائرین کا ایک قافلہ روحانیت کی تلاش میں ان آتش فشاں پہاڑوں کی چوٹی پر چڑھتا ہے جسے ہندو عقیدے میں سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اکرم نے مجھے بتایا ‘ماتا ہنگلاج یاترا کے لیے پورے بلوچستان اور سندھ صوبوں سے دسیوں ہزار لوگ آتے ہیں، وہ موم بتیاں جلاتے ہیں اور آتش فشاں میں ناریل پھینکتے ہیں، بلند آواز میں اپنے گناہوں کا اعلان کرتے ہیں اور دریائے ہنگول میں پوِتر یا پاکیزہ غسل کرنے سے پہلے معافی مانگتے ہیں۔ پھر ان کے مطابق وہ قریب ہی ہنگلاج ماتا کی عبادت گاہ کا دورہ کرنے کے لیے موزوں حالت میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ ایک ایسا سفر ہے جو زندگی میں اچھے کام کرنے کے ساتھ ساتھ روح کو بلند مقام پر لے جاتا ہے۔‘

گہرائیوں میں ایک راستے پر چلنا شروع کیا۔ وہاں ایک چٹان کے نیچے ہماری ملاقات مہاراج گوپال نامی ایک بزرگ شخص سے ہوئی جو ایک آرائشی شیشے کے صندوق پر رکھی گئی ہنگلاج ماتا کی عبادت گاہ کی چوکیداری کر رہے تھے۔

انھوں نے عبادت گاہ کا قصہ سنانے سے پہلے ہمیں بیٹھنے کی دعوت دی۔

گوپال نے کہا ‘لاکھوں سال پہلے، پہلے یوگ (بنی آدم کے دور) میں، دیوی ستی کی موت ہو گئی تھی اور دیوتا وشنو نے ان کے جسم کے 51 ٹکڑے کیے تھے دیوی کے یہ ٹکڑے زمین پر گرے اور زیادہ تر ٹکڑے انڈیا پر گرے لیکن ان کے سر کا کچھ حصہ یہاں مکران میں گِرا تھا۔ ان تمام مقامات کو ‘شٹکی پیٹھ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایسے مقدس مقامات جہاں ہندو دیوی کی تعظیم کے لیے سفر کرتے ہیں اور یہ عقیدہ ہے کہ وہ آخرت تک یہ کام انجام دیتے رہیں گے۔‘

گوپال نے مایوسی کے ساتھ کہا ‘اب ہم چوتھے اور آخری یوگ (دور) میں ہیں اور وہ دن جلد ہی آئے گا ۔ جب یہ یوگ ختم ہو جائے گا، جو کچھ آپ یہاں دیکھ رہے ہیں، مکران بلکہ حقیقت میں پوری دنیا پوری طرح تباہ ہو جائے گی۔‘

تباہی بھری قیامت کی پیشین گوئی کے بعد انھوں نے مسکراتے ہوئے ہمیں ناریل دیا اور ہمارے آگے کے سفر کے لیے نیک تمنائیں بھی پیش کیں۔ ہم مکران ساحلی سلسلے کی چٹانوں کو چھوتے ہوئے روانہ ہوئے۔

پاکستان کے سب سے بڑے لیکن سب سے کم آبادی والے صوبے میں زیادہ تر سفر میں زندگی کی نایاب جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں کبھی کبھار کسان اپنے گدھے پر ایک دور دراز بازار کی طرف جاتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دیہاتی لڑکے دھول اور ریت سے بنی عارضی پچوں پر مقبول کھیل کرکٹ کھیلتے نطر آئے

ہائی وے پر بہت زیادہ چڑھائی شروع ہو گئی جو ہماری فور وہیل گاڑی کے لیے آزمائش تھی لیکن راستے میں محتاط اور ہنر مند ٹرک ڈرائیوروں کو دیکھ کر حوصلہ ہوا۔

اکرم نے کہا ‘آج کے دور میں تارکول سے بنی سڑک پر یہ ایک ناہموار سواری ہو سکتی ہے لیکن سکندر اعظم کے زمانے میں اس کی فوج نے پیدل اور گھوڑے کی پیٹھ پر اس سخت اور مشکل راستے پر سفر کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ 325 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے 30,000 فوجیوں کے ساتھ اپنی مہم میں انڈیا سے لیکر مکران کے پار بابل کی جانب سفر کیا تھا۔ جو اس وقت عراق میں ہے۔ یہ خوفناک اور مصیبت زدہ سفر تھا اور گرمی کے سبب بہت سی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

خیال کیا جاتا ہے جن لوگوں نے سفر شروع کیا ان میں سے صرف نصف ہی اس علاقے میں زندہ داخل ہوئے تھے جو جدید دور کا ایران ہے۔ بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وہی راستہ ہے جو سکندر اعظم نے اختیار کیا تھا، حالانکہ یہ یقینی طور پر کہنا مشکل ہے۔‘

ہمارا آخری پڑاؤ ایرانی سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں جیوانی کے گرد آلود قصبے میں تھا۔ اس کی مرکزی سڑک پر پگڑی والے سردار کا مجسمہ تھا، جو بلوچستان کے پرانے قبائلی سرداروں میں سے ایک تھا جس کا اقتدار روایتی طور پر ایک ‘پگڑی’ کی رسم میں ایک بڑے بیٹے سے دوسرے کو منتقل کیا جاتا تھا، جو کہ تاجپوشی کے مترادف تھا۔

یہاں ہم ایک مختلف قسم کی شاہی یادگار کی تلاش میں نکلے، ایک بنگلہ جو خاص طور پر ملکہ وکٹوریہ کے لیے بنایا گیا تھا اور جو اب پاکستانی کوسٹ گارڈز کی سیکنڈ بٹالین کے زیر قبضہ ایک اعلیٰ حفاظتی کمپلیکس کا حصہ ہے۔

اگرچہ بنگلہ عام طور پر عام لوگوں کے لیے بند ہوتا ہے، لیکن کافی بات چیت کے بعد ایک کپٹن نے ہمیں حفاظتی رکاوٹوں سے گزر کر بحیرہ عرب کے ساحل سے نیچے یہ بنگلہ دیکھنے کی اجازت دی۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ چونکہ ملکہ وکٹوریہ نے مکران کے خوبصورت غروب آفتاب کے بارے میں سنا تھا اس لیے وہ دیکھنے کے لیے 1876 میں ان کے لیے یہ بنگلہ بنایا گیا تھا۔ مورخین کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے اس حصے میں کبھی نہیں آئیں، لیکن بزرگ مقامی لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ وہاں گئی تھیں۔

ہم محلاتی رہائش گاہ کی اگلی سیڑھیاں چڑھ گئے۔ اندر صرف تین چھوٹے کمرے تھے۔ ایک بیڈروم، کھانے کا کمرہ اور بیٹھنے کا کمرہ۔ بنگلے میں کچھ پرانی چیزیں باقی تھیں۔ لیکن ٹیلی فون کے ذریعے بنگلے کو ملازمین کے کوارٹر سے جوڑا گیا تھا۔ عمارت کو حال ہی میں کوسٹ گارڈ کے انسداد سمگلنگ آپریشنز کے لیے تبدیل کیا گیا تھا۔

‘ہم چائے پر کپٹن سے گفتگو کر رہے تھے تو انھوں نے بتایا کہ یہ بڑا کاروبار ہے۔ یہاں زیادہ تر پٹرول کی سمگلِنگ ہوتی ہے لیکن اس میں منشیات اور ہتھیار بھی شامل ہیں۔ یہاں ہم سرحد پار سے آنے والی کسی بھی نقل و حمل کے ساتھ ساتھ خلیج عمان کی کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں۔‘

ہمیں غروب آفتاب دیکھنے کے لیے رکنے کی اجازت نہیں تھی لیکن کپٹن نے قریبی جیوانی بیچ پر ایک جگہ تجویز کی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سبی شہر سے زائرین کا ایک گروپ، جو شمال مشرق میں 1,000 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے، اس نظارے کو دیکھنے کے لیے پہلے ہی جمع ہو چکا تھا۔

ان میں سے ایک نے کہا ’اس نظارے کے لیے اتنا طویل سفر کرنا بیکار نہیں ہے۔ کیونکہ مکران کا غروب آفتاب کسی اور جگہ کے غروبِ آفتاب جیسا نہیں ہوتا۔ جیسے ہی سورج آسمان پر نیچے اترنا شروع ہوتا ہے آسمان میں کئی رنگ بکھرنے لگتے ہیں پیلے سے نارنجی، پھر انار کی طرح سرخ رنگ اور آخر میں جامنی رنگ پھیلنے لگتا ہے۔ جب یہ رات کے اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے تو ہم دعائیں مانگتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خدا کے فضل سے یہ اگلی صبح دوبارہ طلوع ہو گا۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.