قطر اور امریکا سے خط آتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں، جسٹس روح الامین

0 23

پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس روح الامین نے ایک مقدمے کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ بہت سارے لوگ ہوا میں خط لہراتے ہیں، قطر، امریکا اور جرمنی سے خط آتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں۔

ای پی ایچ ڈی کے لیے جرمنی جانے والے کی نوکری ختم کرنے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اشتیاق ابرہیم کے دو رکنی بینچ نے کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ منتظر عباس پی ایچ ڈی کی غرض سے جرمنی گیا تھا، کورونا کی وجہ سے وقت پر پی ایچ ڈی مکمل نہیں کر سکا تھا جس پر یونیورسٹی نے نوکری ختم کردی، منتظر عباس پشاور یونیورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر ملازم تھا، جرمنی یونیورسٹی سے خط حاصل کیا گیا ہے جس میں بتایا ہے کہ پی ایچ ڈی ڈگری کورونا کی باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔

جسٹس روح الامین نے کہا کہ بہت سارے لوگ ہوا میں خط لہراتے ہیں، قطر، امریکا، جرمنی سے خط آتے ہیں اور وہ جھوٹے ہوتے ہیں۔ بعد ازاں  عدالت نے پشاور یونیورسٹی سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.