حکمرانوں کی عد توجہ کے باعث ہزاروں لوگ اپنے پیاروں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، غلام نبی مری
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر غلام نبی مری نے گزشتہ روز پریس کلب کوئٹہ کے سامنے شہید عبداللہ قہار ٹرسٹ کے زیراہتمام نیشنل ہاﺅیز کو دورائے کرنے اور اس نیشنل ہائی ویز پر شہید ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو، ضلعی کسان ماہی گیر سیکرٹری ملک محمد ابراہیم شاہوانی اور پارٹی کے مرکزی کونسل کے اراکین فیض اللہ بلوچ اور جان محمد مینگل بھی موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے
کہ چمن ،کوئٹہ تا کراچی، کوئٹہ تا تفتان، کوئٹہ تا جیکب آباد، اور کوئٹہ تا ژوب، ڈی آئی خان تک قومی شاہراہیں مقتل گاہ میں تبدیل ہوگئیں ہیں حکمرانوں کی عد توجہ کے باعث ہزاروں لوگ اپنے پیاروں سے ہاتھ دھو چکے ہیں دنیا میں ترقی یافتہ ممالک پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کیلئے سڑک کی تعمیر کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو ترقیاتی یافتہ معاشرے سے دور ہیں اس سڑک کے ذریعے آسان سفر کرکے اپنا منزل مقصود حاصل کرسکے لیکن بد قسمتی سے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو سڑکیں تعمیر ہوئی ہیں
وہ تنگ اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مقتل گاہ میں تبدیل ہوگئی ہیں آئے روز ٹریفک حادثات میں بلوچستان کے لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہوجاتے ہیں جو حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے جب تک قومی شاہراہوں کو جدید خطوط پر استوار کرکے ایکسپریس وے یا موٹرویز نہیں بنائے جاتے اس وقت تک یہ خونی شاہراہیں بلوچستان کے لوگوں سے ان کے پیارے چھینتی رہیں گی اور یہی شاہراہیں لوگوں میں خوف وہراس کا باعث بنتی رہیں گی اس لئے حکمرانوں کو چاہیے
کہ وہ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کیلئے پنجاب طرز کے موٹرویز اور ہائی ویز تعمیر کرے تاکہ بلوچستان کے لوگ بھی بہترین سڑکوں پر سفر کرسکے انہوں نے کہا کہ بی این پی نے پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہمیشہ بلوچستان کی اجتماعی مسائل کو حل کرنے کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کی یہی وجہ ہے کہ 6نکات میں ان نیشنل ہائی ویز کو دورایے کرنے اور ڈبل کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا
اور پارٹی نے بارہا ارباب اختیار اور حکمرانوں کے سامنے بلوچستان کی شاہراہوں کے بد تر حالات کو بہتر کرنے کے حوالے سے توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن آج تک ہمارے آواز کو اہمیت نہیں دیا گیا کیونکہ حکمرانوں کو بلوچستانی عوام کی جانوں کی تحفظ اور بچانے سے کوئی سروکار نہیں اور نہ وہ یہاں کے حقیقی ترقی کو فروخ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں صرف اور صرف حکمرانوں کے ہمارے سائل وسائل قدرتی دولت سے غرض ہے اگر بلوچستانی عوام کے سہولیات ان کے ترجیحات میں شامل ہوتے تو آج بھی پنجاب کے طرح بلوچستان کے نیشنل ہائی ویز میٹرو ایکسپریس وے میں تبدیل ہوتے۔