دنیا کے انسان اس بات پر متفق ہیں کہ وطن ماں کی مانند ہے ،عثمان کاکڑ
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر وسینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہاہے کہ اسلام آباداستعمار آباد جہاں کی استعماری قوتیں 22کروڑ عوام سمیت تمام اداروں کو کنٹرول کررہی ہے ،مادر وطن اور مادری زبان سے محبت ہر انسان کا حق ہے ہمیں آج بھی انگریزوں کی پالیسی پر گامزن ہوکراپنی مادروطن سے نفرت سیکھایاجارہاہے ،وہ پنجابی ،سندھی ،پشتون ،بلوچ اور سرائیکی سب سے بڑا غدار ہے جو اپنے بچوں کو مادری زبان سے محروم کرتاہے ،وفاق میں بلوچستان کے کوٹے کی15ہزار ملازمتیں خالی ہیں ان پر بلوچستان کے لوگوں کو تعینات کیاجائے
۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہاکہ اپنے پارٹی ممبران ،کارکنوں اور اراکین اسمبلی کامشکور ہوں ،قدرت نے دنیا پیدا کی اور کوئی ایک انچ نہیں جو لاوارث ہوں اقوام پیدا کرکے ان کو وسائل دئےے ہیں ،قدرت کی نظر میں زبان ،کلچر ،قوم بہت اہمیت رکھتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ دنیا کے انسان اس بات پر متفق ہیں کہ وطن ماں کی مانند ہے ،ہر ایک کو اپنی ماں سے محبت کرناچاہےے ،ہمیں بھی یہ حق ہوناچاہےے کہ ہم اپنی ماں سے محبت کرے مگر افسوس کہ انگریز کے دور سے ہمیں اپنی ماں سے محبت اور خدمت کرنے کا موقع نہیں دیاگیاہمیں اپنی ماں سے نفرت سیکھایاجارہاہے یہ سلسلہ 73سالوں سے جاری ہے ،ہرقوم کی اپنی شناخت ہے
،وہ پنجابی غدار ہے جو اپنے پنجابی بچوں کو اپنی مادری زبان سے محروم کرتے ہیں اس سے بڑاغدار کوئی نہیں اسی طرح سندھی ،بلوچ،پشتون ،سرائیکی کا ہے انگریز استعمار کے تسلسل کوجاری رکھتے ہوئے وہی سلسلہ جاری رکھاگیاہے ،انگریز آئے افغان ،پنجاب ،بلوچ ،سندھی وطن کو تقسیم کیا کوئی خدائی حکم تونہیں کہ ہم اس تقسیم کو قیامت تک مانیں پوری ریاست انگریز کے فیصلوں پر چل رہی ہے ،9سال ملک بغیر آئین چل رہا تھا انگریز کے خلاف جدوجہد کرنے والوں پر ظلم ،بربریت اور غداری کے الزامات لگائے گئے ،وہ لوگ محب وطن ٹھہرے جنہوں نے انگریز کی خدمت کی
،انہوں نے کہاکہ افغانستان کامسئلہ بہت آسان ہے لیکن وہاں آج بھی مداخلت جاری ہے بزور طاقت افغانستان پر فیصلے مسلط نہ کیاجائے ،کشمیر کامسئلہ بہت سادہ ہے ہزاروں لوگ شہید ہوئے یہ پالیسی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ 95فیصد کو ہندوستان کے حوالے کرتے ہیں لیکن متحدہ وخودمختار کشمیر کیلئے ہم تیار نہیں کشمیر کی ایک ایک انچ پر کشمیریوں کا خودمختاری ہونی چاہےے ،گلگت بلتستان کا یہی مسئلہ ہے ،ملک میں اس وقت دو تین مسائل ہے ،قومی جبر،طبقاتی جبر اور عوام وجمہوریت کے خلاف آمرانہ جبر مسائل جس کامستقل حل نکالنے کی ضرورت ہے ،دہشتگردی کے ذمہ دار یورپین ،امریکن ،عرب اور ضیاءالحق ہے جنہوں نے بندوق ،منشیات کاکلچر رکھا 9/11کے بعد یہ ذمہ داری پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے ،70ہزار لوگ شہید ہوئے 2لاکھ سے زائد گھروں کومسمار کردی گئی ،پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 5جنگیں ہوئی ہیں جس میں 20ہزار لوگ قتل نہیں ہوئے 10ہزار گھر مسمار نہیں ہوئے ،
ایک ریاست کے اندر 40لاکھ آئی ڈی پیز مالاکنڈ کے25لاکھ اور وزیرستان کے 15لاکھ آئی ڈی پیز کی زندگی گزاررہے ہیں ،پشتون ،سندھی ،بلوچ کے ہزاروں لوگ لاپتہ ہوچکے ہیں اگر کوئی مجرم ہے تو انہیں عدالت سے سزائیں دلوائی جائیں ،یہ پالیسی ماورائے آئین ہے ،انہوں نے کہاکہ اسلام آباد بڑا خوبصورت نام جہاں فیڈریشن کی مضبوط،اقوام کی برابری ہونی چاہےے لیکن افسوس یہ اسلام آباد نہیں بلکہ استعمار آباد ہے یہاں استعماری قوتیں جو اقوام اور 22کروڑعوام سمیت اداروں کو کنٹرول کررہے ہیں ،احتساب ہوناچاہےے سب سے پہلے سیاستدانوں کا ہوناچاہےے اس کے ساتھ ہی فوج ،عدلیہ ،بیوروکریسی ،صنعت کاروں ،ٹریڈرز ،بینکرز کاایک مشترکہ میکنزم کے تحت احتساب ہوناچاہےے لیکن یہاں صرف سیاست دان گناہ گار ہیں اگر مخالف ہوں توآپ واجب القتل ہوں ،انہوں نے کہاکہ غداری کامسئلہ ختم ہوناچاہےے
،انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دور آغاز حقوق بلوچستان کے تحت وفاقی حکومت میں بلوچستان مین انسرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ صوبے میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کی جائےگی تقریباََ 45 سے50وزارتوں ،ڈویژنز ،اتھارٹیزاور کمیشن نے صوبے کے ہزاروں کی تعداد میں سروسز لے لیں جن کی تعداد10ہزار کے لگ بھگ ہیں لیکن اب جو بلوچستان کو حقوق دینے کاآغاز تھا اس آغاز حقوق بلوچستان کو وفاقی حکومت نے بلوچستان کے کوٹے میں ضم کردیاہے آئندہ20سالوں میں بلوچستان کاکوئی نوجوان وفاق کے ملازمتوں پر بھرتی نہیں ہوسکتا جس پر بعدازاں بحث ہوئی ،
آغاز حقوق بلوچستان کے تحت ملازمتوں کو صوبائی کوٹے سے الگ کیا گیا جس پر میں تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں ،اب 15ہزار ملازمتیں مختلف محکموں اور ڈویژنز،کارپوریشنز اور اتھارٹیز میں رہتے ہیں بلوچستان کی بے روزگاری اور معاشی بحالی سے سب لوگ بخوبی واقف ہیں گزشتہ 11سالوں میں ہمیں3فیصد سے بھی کم ملاہے یہ معاملہ کمیٹی میں آیا جس کی منظوری دیدی گئی ،ایوان بالا اس سلسلے میں رولنگ دیں تاکہ معاملہ حل ہوں ۔