خاران میں گندم کی اسمگلنگ، مہنگے داموں فروخت، غریب کی پہنچ سے باہر

0 141

  خاران میں گندم فی بوری 10000 ہزار، پسائی 600 چنگچی کرایہ 400، ٹوٹل 11000 ہزار کا فی بوری آٹا غریب کی قوت خرید سے باہر۔ قاری عبدالراشدریکی ڈویژنل صدر پاکستان سنی تحریک نے اپنے بیان میں کہا کہ باہر کے افغان تاجر مہنگے داموں خرید کر افغانستان و دیگر شہروں کی طرف بھیج رہیے ہیں۔ زمینداروں نے اپنے بچوں کے لیے سال کا توشہ رکھا ہے جو بے دریغ باہر کے تاجروں کو فروخت کررہے ہیں، دہاڑی دار اور ملازم طبقہ کے لئے گندم کی قلت جو پیدا کی جارہی ہے اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور زمینداروں پر عائد ہوتی ہے۔ خاران کی پیداوار سے خاران کے عوام کو محروم کیا جارہا ہے، ہزاروں بورنگز کی وجہ سے زیر زمین پانی مسلسل ختم ہوتا جارہا ہے زمینوں بنجر بنادیا گیا ہے جبکہ پیداوار سے خاران کے عوام کو محروم کیا جارہا ہے۔ گندم اور جانوروں کی اسمگلنگ کو سختی سے نہ روکا گیا تو خاران میں گندم اور گوشت کا شدید بحران پیدا ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر خاران سے اپیل ہے کہ وہ گندم اور مال مویشی کی باہر لیجانے پر سختی سے پابندی لگائیں اور ایم پی اے ایم این اے اور ان کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ لالچی زمینداروں کی سفارش کے بجائے غریب عوام کا سوچیں اور انتظامیہ کو چھوڑنے پر مجبور نہ کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.