متحدہ عرب امارات: بن سلطان خاندان نے ریگستان میں قائم سلطنت کو عالمی طاقت کیسے بنایا؟
50 سال پہلے تک جزیرہ نما عرب کے صحرا میں قبائلی شاہی ریاستوں کے ایک گروپ کے طور پر موجود متحدہ عرب امارات مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
تقریباً نصف صدی بعد، جہاں زیادہ تر کھلے بازار اور خیمہ نما مکانات تھے، وہاں فلک بوس عمارتیں اور عمدہ شاہراہیں دکھائی دیتی ہیں۔
جہاں کبھی کھجور کاشت کی جاتی تھی، موتیوں کو سمندر سے تلاش کیا جاتا تھا اور زندگی گزارنے کے لیے اونٹوں کی نسلیں پالی جاتی تھیں، وہاں اب جزیرہ نما عرب میں آرٹ کا سب سے بڑا عجائب گھر پیرس کا لورے ان پیرس اور نیویارک یونیورسٹی اور پیرس کی سوربون یونیورسٹی کی شاخیں کھل چکی ہیں۔
آج وہاں دنیا کی سب سے اونچی عمارت، (سیون سٹار) ہوٹل، دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ (لیونارڈو ڈاونچی کی سیویئر آف دی ورلڈ والی پینٹنگ) اور دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ سینٹرز موجود ہیں۔
یہی نہیں بلکہ وہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے خلا میں اپنے مشن بھیجے ہیں، ساتھ ہی وہ پہلا ملک ہے جہاں دفاتر میں ساڑھے چار دن کام کا دن ہے۔
عرب ممالک کے درمیان اپنے تیل کے کنوؤں کی بدولت جدت اور ٹیکنالوجی کی مضبوط ہم آہنگی والا ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) مشرق اور مغرب کے درمیان ایک گیٹ وے یعنی دروازہ بن گیا ہے۔