عامرلیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانےکی درخواست مسترد
سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
عامر لیاقت کےپوسٹ مارٹم کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کا فیصلہ برقراررکھا۔
سابق اہلیہ دانیہ شاہ بھی درخواست میں فریق تھیں۔سابق اہلیہ دانیہ شاہ نے عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کرانے کی حمایت کی تھی۔
عدالت نےعامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام درخواستیں مسترد کردیں۔
پوسٹ مارٹم کی درخواست عبدالاحد خان ایڈووکیٹ نے دائرکی تھی۔ انھوں نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ میں عام شہری کے طور پر پیش ہوا ہوں اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کی پچھلی ججمنٹس موجود ہیں۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ ابھی تک عامرلیاقت کی موت کا مقدمہ درج ہوا، نہ ہی میڈیکل رپورٹ میں انتقال کی وجہ سامنے آئی۔
درخواست گزار نے کہا کہ عامر لیاقت کے انتقال پر شکوک پیدا ہوچکے ہیں، پولیس بھی پوسٹ مارٹم چاہتی ہے، سیشن کورٹ نے پوسٹ مارٹم سے متعلق درخواست مسترد کی ہے۔
عامرلیاقت کے ورثا کے وکیل نے بتایا کہ درخواست گزارکے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں اور درخواست گزار ایک سیاسی جماعت کے کارکن ہیں۔
معاملے کا پس منظر
عامر لیاقت حسین 9 جون کو کراچی میں انتقال کرگئے تھے، ان کی تدفین 10 جون کو ہوئی تھی۔
عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال اور مرحوم کے بچوں نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کرادیا تھا۔ پولیس سرجن نے بشریٰ اقبال کو ایم ایل اوز کی جانب سے یقین دہانی کرائی تھی کہ رپورٹ افشا نہیں کی جائے گی لیکن یہ رپورٹ پولیس کو ضرور دی جائے گی اور وہ پولیس حکام کی ضمانت نہیں لے سکتے۔
پولیس اور ایم ایل او کی جانب سے ضمانت نہ ملنے پر بشریٰ اقبال نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا تھا۔
عدالتی حکم پرعامر لیاقت کے ظاہری طبی معائنے کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
عامر لیاقت کی تدفین کے چند روز بعد عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عامر لیاقت کو جائیداد کے لیے ممکنہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔ اس لئے ان کی موت کی وجوہات کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے۔