خواتین کو بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کیا گیا ، ظہور بلیدی
کوئٹہ (امروز نیوز) وزیر خزانہ بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ آواران میں گرفتار ہونے والی خواتین کو بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کیاگیا قانون اور عدالتیں کسی اتحادی کے کہنے پر نہیں بلکہ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں ،وزیراعلیٰ جام کمال کی قیادت میں حکومت مستحکم اور مضبوط ہے، وزیراعلیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ٹیم تشکیل دیں کابےنہ میں تبدیلی اتحادیوں کی رضا مندی سے ہوئی ، پی ایس ڈی پی کی اسکیمات کے لئے 34ارب روپے ریلیزہوچکے ہیں، صوبے کے 37ارب روپے کے فنڈز کی کہیں اور منتقلی کی خبریں بے بنیاد ہیں ، بلوچستان کی ترقی اور گڈگورننس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، صوبے کا کوئی ایسا ضلع نہیں جہاں 2ارب روپے سے کم کام ہو رہے ہوں یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی ، سیکرٹری خزانہ بلوچستان نو رالحق بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور گڈگورننس ہمارا منشور ہے حکومت بننے کے بعد گڈگورننس اور بلوچستان کی ڈی ٹریک ترقی کو درست سمت پر لانے اور موثر حکومت کی طرف بڑھیں اس سلسلے میں کابےنہ کی زیلی کمےٹی نے پی ایس ڈی پی کا باغور جائزہ لیا اور گزشتہ پی ایس ڈی پی سے 2500 غےر ضروری اور بوگس اسکیمات کو نکالا گیا ،رواں مالی سال کے بجٹ کا ہجم 419 ارب روپے ہے جس میں 108رب روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں بجٹ کے اثرات عام بلوچستانی تک پہنچانے کے لئے کام شروع کیاگیا پی ایس ڈی پی میں کل1797نئی جبکہ 665پرانی اسکیمات شامل ہیں رواں سال کی 1600اسکیمات منظور کر کے 34ارب روپے صوبائی حکومت نے ریلیز کر دئےے ہیں بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کی نسبت اس سال اب تک 195 فےصد زیادہ رفتار سے اسکیمات پرریلیزز کی ہیں جبکہ یہ شرح پنجاب میں 42،سندھ میں 18 فیصد جبکہ خیبر پختونخواءمیں منفی میں ہے ،انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار بریفنگ میں اسکیمات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے اسکیمات پر عمل درآمد ایک طویل پراسس کے تحت ہوتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسکیما ت پر جولائی سے کام شروع کردیا تھا ، اب تک 1000سے زائد اسکیمات پر ٹینڈ ہو چکے اور ان پر کام جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے پہلی بار 15بلین ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں 11بلین بی آر اے جبکہ 4بلین ایکسائز ، بورڈ آف ریونیو سمیت دےگر محکموں سے حاصل کیا جائےگا، انہوں نے کہا کہ ایک اخبار کی جانب سے حکومت بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز کہیں اور منتقل کرنے کی بات کی گئی یہ بات درست نہیں ہمیں عوام نے خوشحال بلوچستان اور مستحکم پاکستان کے نام پر ووٹ دئےے بلوچستان عوامی پارٹی کا منشور ہے کہ ترقیاتی عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، پہلے ادوار میں صرف حکومتی نمائندوں اور چند حلقوں پر ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جاتی تھی اپوزیشن حلقوں کو نظر انداز کیا جاتا تھالیکن موجودہ حکومت 51حلقوں میں کام کر رہی ہے ایساکوئی ضلع نہیں جہاں 2ارب روپے سے کم کام ہو رہے ہوں ہر حلقے میں پانی ،بجلی ،صحت، تعلیم ،انفراسٹرکچر پر کام ہورہا ہے ، انہوں نے کہا کہ میڈیا حساس معاملات پر رپورٹ کرنے سے پہلے تحقیق کر لئے اپوزیشن جماعتیں جس طرح اس اخباری رپورٹ کی بنیاد پر بیانات دے رہی ہے وہ اپنے حلقوں میں جا کر دیکھیں جتنے عوامی مسائل اس حکومت میں ہورہے کبھی نہیں ہوئے اپوزیشن لوگوں کو گمراہ نہ کررہے ،انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل ، گڈگوننس ہماری ترجےح رہی ہے صوبے کے تمام ڈویژنز کو یکسر اہمیت دےتے ہوئے چھوٹے بڑے منصوبوں پر کام ہو رہے ہیں صوبے میں ہسپتال ،ڈیم، واٹر سپلائی ، ماڈل اسکول بن رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں فنڈز لیپس ہوئے موجودہ حکومت نے معاشی حکمت عملی پرزور دیا ہے ،کوئٹہ کے 9حلقوں میں کام ہورہا ہے،ڈےرھ ارب روپے شہر میں زمین کی خریداری کے لئے مختص کئے گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے خاتمے کے لئے کام کر رہے ہیں ،ہمارا پی ایس ڈی پی کسی صورت بھی متاثر نہیں ہوگا، کوئٹہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ یہاں انتظامی امور بہترکرنے کی ضرورت ہے جس پر متعدد تجاویز زیر غور ہیں تاہم کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا،انہوں نے کہا کہ پہلی بار پلاننگ کمیشن کی ٹیم کوئٹہ آئی اور یہاں کی قیادت اور انتظامیہ سے بات ہوئی جس کے بعد 70سے80ارب کے منصوبے دئےے گئے جن میں سے 21ارب این ایچ اے کے ہیںجبکہ خاران ، نولند ڈیم جھل مگسی ، بسیمہ تا گوادر ٹرانسمیشن لائن، ژوب کچلا ک روڈسمیت دےگر اہم منصوبے شامل ہیں ،اب تک 9ارب کے قریب وفاقی پی ایس ڈی پی سے ریلیز ہوچکے، انہوں نے کہا کہ نولند ڈیم ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے بنایا جارہا ہے اس میں کچھ مسائل تھے جنہیں دور کردیا گیا ہے اس ڈیم سے 5میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں اور 47ہزار ایکڑرقبہ اسکی کیچمنٹ ایریا میں شامل ہے منصوبہ جلد ہی شروع کردیا جائےگا، گروک ڈیم پر بھی کام جلد شروع ہوگا ،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کبھی کبھار معاملات بڑھا چڑھا کر پیش کر دئےے جاتے ہیں وزیراعلیٰ کی قیادت میں صوبائی حکومت سیاسی طور پر مضبوط اور مستحکم ہے ،تمام اتحادی متحد ہیں ،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ٹیم تشکیل دیں وزیراعلیٰ نے مجھ ،عارف محمد حسنی سمیت دےگر وزراءکے قلم دان تبدیل کئے یہ ہر حکومت کا اختیار ہے جو کچھ بھی ہورہا ہے اس میں کابےنہ یکجا اور اتحادیوں کی رضا مندی سے ہوا ہے ، نصیب اللہ مری کابےنہ کے اہم رکن ہیں وہ ہمارے ساتھ ہونگے وزیراعلیٰ واپس آکر کوئی بہتر فیصلہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت 14سے زائد وزراءاور 6سے زائد مشیر نہیں لئے جا سکتے اگر یہ قانونی رکاوٹ نہ ہوتی تو وزراءکی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا تھا ،وزیراعلیٰ نے لائزن اسسٹنٹ و دےگر لوگ اعزازی بنیادوں پر تعینات کئے ہیں 8اسپیشل اسسٹنٹ کی تعیناتی کے لئے اسمبلی سے باقاعدہ قانون منظورکیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بہتر سمجھتے ہیں کہ کس وزیر کو کونسامحکمہ اور کام دینا ہے کابینہ کے تمام اراکین خوش اصلوبی سے کر رہے ہیں اس وقت وزیراعلیٰ جام کمال خان جتنا کام کرتے ہیں کوئی وزیراعلیٰ نہیں کر رہا ، صوبے کے تمام معاملات کو طویل مشاورت کے بعد طے کیا جاتا ہے ، صوبے میں لینڈ لیز پالیسی نہیں تھی جو ہم نے منطور کی ، چین نے گوادر میں پاور پلانٹ لگانے کے لئے 50کروڑ روپے میں زمین دی ہے جسکا سالانہ اڑھائی کروڑ کرایہ بھی ملے گا ،تمام منصوبے میں شرکت داری بنیادوں پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کوئٹہ پر توجہ دے رہی ہے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بہترکیا جارہا ہے پراپرٹی بل اسمبلی سے منظور کیا جارہا ہے جس کے تحت 18ہزار اثاثو ں سے آمدن ہوگی شہر میں میٹروپولیٹن کو صرف 25لاکھ مل رہے تھے،اب ہم نے نئی قانون سازی کی ہے جس سے اربوں روپے کی آمدن ہوگی جو کوئٹہ کی فلاح بہبود پر خرچ ہونگے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں خواتےن کا اہم مقام ہے قانون کسی کا تابع یا پابند نہیں ،آواران سے گرفتار خواتین بے گنا ہ تھیں تو انہیں رہا کیاگیا بصورت دیگر عدالت انہیں سزا دیتی ،قانون کسی اتحادی یا کسی اور کے کہنے پر حرکت میں نہیں آتا نہ کسی کو چھوڑتا ہے الزامات ہر کسی پر لگ سکتے ہیںلیکن عدالت ثبوتوں اور شواہد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ خواتین کو باعزت طور پر الزام ثابت نہ ہونے پر رہا کیا گیا اس پر حکومت اور قانون کو داد دینی چاہےے ،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ پچھلے سال بھی اپوزیشن نے بجٹ لیپس ہونے کے نقطے پر سیاست کی ہمارا موقف تھا کہ ایک روپیہ بھی لیپس نہیں ہوگا اور وہ نہیں ہوا، ماضی میں پی ایس ڈی پی کے منصوبے مالی سقت سے زیادہ تھے اس سلسلے میں 31ارب روپے کی 2500جعلی اسکیمات ختم کی گئیں اپوزیشن نے اس حوالے سے بھی حکومت پر دباﺅ ڈالا ،صوبائی حکومت عوام دوست اقدامات کر رہی ہے 37ارب روپے کہیں اور منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہیں ہم وفاقی پی ایس ڈی پی کے 82ارب سے ہٹ کر کوئٹہ خضدار قومی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کو سی پیک منصوبے میںشامل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ،بدقسمتی سے اپوزیشن عوام کو صےح سمت اور حقائق بتانے کے بجائے گمراہ کر رہی ہے اپوزیشن میں پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں انہوں نے ریسرچ کرنی چھوڑ دی ہے بغیر تحقیق حکومت کو بدنام کر نا نہ قوم پرستی ، نہ وطن پرستی نہ یہ محب وطنی نہ یہ عوام کی خدمت ہے یہ افسوسناک عمل ہے ،ہم وزیراعلیٰ کی قیادت میں بلوچستان کی ترقی کے وژن پر قائم دائم ہیں بلوچستان کے سرمایہ اور ایک ایک روپے کے نگہبان ، امانت دار ہیں صوبے کا ایک روپیہ بھی مس یوز یا ڈائیورٹ نہیں ہونے دیں گے ہم بلوچستان کو تبدیل کر کے میگا منصوبے بنا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ 64،64ایکڑ پر اضلاع میں اسپورٹس کمپلکس بنانے کے منصوبے کسی نے تصور بھی نہیں کئے تھے ہم ان پر کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ثبوتوں کے ساتھ معلومات سوشل میڈیا پر شےئر کر تے ہیں تا کہ عوام کو معلومات تک رسائی فراہم کی جا سکے ، اگر اپوزیشن کے لوگ گمراہ کرتے ہیں تو میڈیا عوام کو حقائق بتائے انہوں نے کہا کہ اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ میں 1ارب کی لاگت سے سریاب میں 7.6کلو میٹر روڈ کی توسیع کا کام شروع ہوجائےگا ، پٹیل روڈ کی توسیع کے لئے 30کروڑ ،پرنس روڈ کی توسیع کے لئے 50کروڑ مختص کئے گئے ہیں،سریاب میں2،ایک اےئر پورٹ روڈ، اور ایک اسپورٹس کمپلکس اسپنی روڈ پر بن رہے ہیں ، کچلا ک میں 64ایکڑ پر اسپورٹس کمپلکس بنا رہے ہیں ،مستونگ روڈ پر 2نئے کالج بنانے جارہے ہیںجس کے لئے پانچ ایکٹر زمین لے لی گئی ہے، 13کروڑ20لاکھ روپے سریاب کے 40ٹیوب ویلز کے لئے ریلیز ہو رہے ہیں ،15کروڑ روپے سے کوئٹہ کے 170غیر فعال ٹیوب ویل فعال کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے ،شیخ زید ہسپتال میں 1ارب روپے کی لاگت سے صوبے کی تاریخ کا پہلا کینسر ہسپتال بننے جا رہا ہے جسکا سنگ بنیاد 15دن بعد وزیراعلیٰ جام کمال خان رکھیں گے ،بچوں کے کینسر کا بھی علےحدہ یونٹ بنا ئیں گے، سبزل اور ارباب کرم خان روڈ کی توسیع بھی ہو رہے ہیں ، پلڈاٹ کی رپورٹ نے وزیراعلیٰ کو62فیصد ریٹنگ دی ہے سیکرٹری خزانہ نور الحق بلوچ نے کہا کہ این ایف سی کے فنڈز حکومت کے اکاونٹ میں آجائےں تو وہ واپس یا لیپس نہیں ہوتے ہمیں ہرماہ وفاق سے دو بار فنڈز ملتے ہیں یہ پےسے کوئی نہیں لیکر جا سکتا، حکومت کا پیسہ لیپس نہیں ہوتا ایسا ممکن نہیں، پہلی بار30اکتوبر تک 30ارب روپے حکومت کے ریلیز ہوچکے ہیں یہ رقم حکومت نے متعلقہ محکموں تک منتقل کردی ہے ،پہلی بار غیر ترقیاتی مد میں 8بلین روپے ریلیز ہوگئے ہیں پہلے یہ رقم جنوری کے بعد ریلیز ہوتی تھی ،اس سال اب تک 34بلین ریلیز ہوگئے ہیں جبکہ 1350اسکیمات کے پےسے ریلیز ہو نے شروع چکے ہیں ۔