8 مہینے سے صوبے میں ترقیاتی فنڈز کا اجزاء حکومت کی ناتجربہ کاری اور کنفیوژن کے باعث کا شکار ہے

0 133

کوئٹہ (امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئے غربت اور ترقی کے عمل میں مکمل جمود پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ گزشتہ 8 مہینے سے صوبے میں ترقیاتی فنڈز کا اجزاء حکومت کی ناتجربہ کاری اور کنفیوژن کے باعث کا شکار ہے ، مارچ کے تیسرے ہفتے میں تمام محکمے اپنے فنڈز ایکسس سرینڈر کی مد میں محکمہ خزانہ کو واپس کر دینگے جس کے بعد صوبے کی تاریخ کا واحد مالی سال ہو گا جس میں 90فیصد ترقیاتی بجٹ لیپس ہو گا ،یہ بات انہوں نے منگل کے روز این این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ، ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں پانی ،تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن ان تمام شعبوں میں 5فیصد فنڈز بھی محروم و محکوم ،پسماندگی کا شکار عوام کی ترقی کے لئے خرچ نہیں کیے گئے، انہوں نے کہا عدالت عالیہ بلوچستان نے بھی چارشعبوں تعلیم ،صحت ،پینے کے پانی اور امن و امان پر ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن اب تک حکومت نے تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی مد میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیاجولیپس ہوجائے گا محکمہ تعلیم میںجن اسکولوں میں تعمیری کام کیلئے ٹینڈر ہوئے وہ بھی کمیٹی اور طریقہ کار میں تبدیلی اور حکومت کی کنفیوژن کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں،انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں صوبے میں چار میڈیکل کالجز کے قیام پر عملدآمد کا کام ایک سال سے تاخیر کا شکار ہے،صوبے میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے لیکن بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیااگر صوبہ اسی طرح چلتا رہا تو غربت کی سطح 86سے بڑھ کر100فیصد ہوجائے گی،ثناء بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے سیلاب متاثرین اور قحط زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کیلئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے کوئی مدلل بات نہیں کرسکی جبکہ این ایف سی کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت کی خاموشی تشویشناک ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناتجربہ کاری اور سست روی کا خمیازہ ایک کروڑ بیس لاکھ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے جبکہ اپوزیشن یا حکومتی حلقے ہوں بلوچستان کا ہر شہری یکساں طور پر زبوں حالی کا شکارہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.