کیا مریم نواز کا بیٹا لندن سے گرفتار ہوا؟
سوشل میڈیا پر 12 ستمبر پیر کے روز ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے متعدد افراد نے بغیر تصدیق کے ہی ری ٹوئٹ اور شیئر کیا۔ قصہ کیا تھا؟ معروف سیاسی رہنما کے بیٹے اور ان سے منسوب اعلیٰ تعلیمی ادارے سے جاری ہونے والی ڈگری کا، مگر اس سے بھی دو قدم آگے نکلتے ہوئے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے گرفتاری کی پرانی ویڈیو کو تازہ کارروائی بھی قرار دے کر وائرل کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر ایک صحافی کی جانب سے یہ ٹوئٹ 12 ستمبر کو وائرل ہوئی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے بیٹے اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کے پاس کیمبرج یونی ورسٹی کی جعلی ڈگری ہے، جس پر انہیں اسکاٹ لینڈ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے متعدد اکاؤنٹس اور اس صحافی کی جانب سے جنید صفدر کی گرفتاری کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب جعلی ڈگری کیس میں اسکاٹ لینڈ پولیس جنید صفدر کو گرفتار کرکے لے جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی جانب سے بغیر تصدیق کے اس ویڈیو کو تواتر سے شیئر اور ری ٹوئٹ کیا گیا۔ معاملہ ن لیگ کی نظر سے گزرا تو یہ معمہ حل ہوا کہ نہ صرف یہ خبر غلط ہے بلکہ شیئر کی گئی ویڈیو کا بھی اس غلط خبر سے کوئی تعلق نہیں۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں ری ٹوئٹ ہونے والی ویڈیو دراصل سال 2018 جولائی کی ہے، جب لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے باہر مخالفین کی جانب سے نواز شریف اور ن لیگ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر جنید صفدر اور مشتعل مظاہرین میں ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے جنید صفدر کو حراست میں لیا تھا۔
جھوٹی ٹوئٹ اور بغیر تصدیق کے ویڈیو وائرل کرنے پر جنید صفدر کی جانب سے بھی وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ جنید صفدر نے اپنی گرفتاری کی خبروں کو گمراہ کن اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی خبروں میں صفدر جنید کی گرفتاری کا تعلق گراچی سے برآمد مسروقہ بینلے کار اور جعلی ڈگری سے جوڑا جا رہا ہے۔ بہتر یادداشت سے عاری خبریں پھیلانے والوں کو اندازہ نہیں کہ یہ ویڈیو 2018 کی ہے۔
جنید صفدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ سال 2018 میں پی ٹی آئی کے غنڈوں کے حملے کے جواب میں اپنا دفاع کرتے ہوئے گرفتار ہوا تھا، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے مجرمانہ تحقیقات کرنے کے بعد مزید کارروائی نہیں کی تھی۔ جعلی خبریں پھیلانے والے صحافی نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی لیکن نہ وضاحت کی نہ معافی مانگی۔ اس طرز عمل کے بارے میں اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔
جنید صفدر کے مطابق بدقسمتی سے ان دنوں سوشل میڈیا سیاسی مخالفین کے خلاف جعلی خبریں پھیلانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اپنی ڈگری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میری ڈگری میں دلچسپی رکھنے والے متعلقہ یونیورسٹیز سے تصدیق کرالیں۔
واضح رہے کہ جنید صفدر نے یونیورسٹی آف ڈرھم سے سیاست میں ڈگری حاصل کی ہے، جب کہ انہوں نے ایم ایس سی گلوبل اینڈ اتھیکس، یونیورسٹی کالج لندن سے کیا ہے۔ بعد ازاں جنید صفدر نے ایم ایس سی انٹرنیشنل ریلیشن لندن اسکول آف اکنامکس اور بی اے لا کیمبرج یونیورسٹی سے کیا۔
جنید کی ہتھکڑی لگی ویڈیو والا واقعہ 18 جولائی 2018 کو نواز شریف اور مریم نواز کی پاکستان روانگی کے دن پیش آیا تھا۔ جنید صفدر اور ان کے دو کزنز کی ایون فیلڈ فلیٹس میں داخل ہونے والوں کو روکنے کے دوران ہاتھا پائی ہوئی تھی۔