امریکی ویزہ نہ ملنے پر فلسطینی خاتون رہنماءکی ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید
بیت المقدس (امروز نیوز)تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن،سابق وزیرہ اور فلسطینی صدر کی سابق مشیرہ حنان عشراوی کو امریکی ویزہ نہ ملنے پر فلسطینی حلقوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ حنان عشراوی نے بھی امریکی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ماضی میں امریکی حکام کےساتھ مذاکرات میں شریک رہی ہوں مگر موجودہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کے حوالے سے انتقامی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔خیال رہےکہ حنان عشراوی نے حال ہی میں امریکا کے سفر کے لیے واشنگٹن سے ویزےکی درخواست کی تھی مگر امریکی حکام نےان کی درخواست مسترد کردی ہے۔ امریکا کی طرف سے فلسطینی خاتون رہنماء کو ویزہ نہ دینے کی وجہ فلسطینی اتھارٹی اور امریکا کےدرمیان پائی جانےوالی کشیدگی بتائی جاتی ہے۔ٹویٹر پراپنے رد عمل میں عشراوی نے کہا کہ میری بیٹی اور اس کے بچے امریکا میں رہتے ہیں۔ میں قضیہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل کی علم بردار ہوں۔ میں 1960ء سے فلسطینیوں کی پرامن مزاحمت کی پر زور حامی ہوں۔ سابق امریکی وزیرخارجہ جارج شولٹز اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کےساتھ میں نے براہ راست مذاکرات میں حصہ لیا۔ مجھے کبھی امریکا کے سفر میں مشکل پیش نہیں آئی۔ عشراوی نے کہا کہ میرے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ امریکا نے مجھے ویزہ دینے سے انکارکردیا۔ حالانکہ میری بیٹی اور میرے نواسے امریکا میں رہتے ہیں۔ میں سال میں تین چار بار امریکا جاتی رہی ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکام نے مجھے ویزہ دینے سے انکارکیا ہے۔امریکی سفارت خانے کی طرف سے حنان عشراوی کے ویزے کی درخواست مسترد ہونے پر کوئی رد عمل ظاہرنہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ امریکا میں صدر منتخب ہونے والے اسرائیل نواز لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ایسے متنازع اقدامات کیے جن کے نتیجے میں امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کےدرمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ انہوںنے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جس کے بعد فلسطینی اتھارٹی نےامریکا کےساتھ رابطوں کا بائیکاٹ کردیا تھا۔