پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف

0 145

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائےگاجبکہ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی منظوری دےدی جس کے تحت بے نامی اثاثے اپنے نام کروائے جا سکتے ہیں،سکیم سادہ رکھی گئی ہے،لوگوں کو ڈرانا مقصود نہیں، اسکیم کا مقصد ٹیکس حاصل کرنا نہیں،بیرون ملک بینک اکاو¿نٹس کو واپس لانا ہوگا ،جائیداد پر ایف بی آر ریٹ سے ایک فیصد زیادہ لاگو ہوگا،بے نامی قانون کے تحت بے نامی جائیداد ضبط اور سزا بھی ہوسکتی ہے، ہمارے پاس 28 ممالک میں پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ اکاو¿نٹس کی تفصیلات ہیں، ایمنسٹی اسکیم کے تحت کالے دھن والوں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے،آئی ایم ایف سے مذاکرات آٹھ ماہ چلے ،سٹاف لیول معاہدہ کی بورڈ منظوری دےگا۔ منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے مختلف نکات کی منظوری دی ہے، لوگ 31 جون تک اس اسکیم میں شامل ہوں گے، کابینہ نے بہت فیصلے کیے تاہم اہم فیصلہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم ہے۔انہوںنے بتایاکہ کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی منظوری دےدی جس کے تحت بے نامی اثاثے اپنے نام کروائے جا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اسکیم سادہ رکھی گئی ہے،لوگوں کو ڈرانا مقصود نہیں،ان کی مدد کرنا ہے کہ اثاثے اپنے نام کریں۔ انہوںنے کہاکہ اسکیم کا مقصد ٹیکس حاصل کرنا نہیں۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ لوگوں کو سہولت دی گئی ہے کہ 4 فیصد ٹیکس دے کر اثاثے اپنے نام کروا لیں۔ انہوںنے کہاکہ بیرون ملک بینک اکاو¿نٹس کو واپس لانا ہوگا ،جائیداد پر ایف بی آر ریٹ سے ایک فیصد زیادہ لاگو ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بے نامی قانون کے تحت بے نامی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسکیم کا مقصد معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جو تنقید کر رہے ہیں وہ بھی ماضی میں آئی ایم ایف کے پاس گئے۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف بنا ہی اس لئے ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ملک کی مدد کرے۔ انہوںنے کہاکہ بجلی کیلئے 216 ارب روپے کی سبسڈی رکھ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو 100 ارب روپے سے بڑھا کر 180 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 650 ارب روپے سے بڑھا کر 800 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ بے نامی قانون کے تحت جائیداد ضبط اور سزا بھی ہو سکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت کالے دھن والوں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس 28 ممالک میں پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ اکاو¿نٹس کی تفصیلات ہیں۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس وصولیاں بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا ہے۔ چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاکہ جائیداد پر ٹیکس کیلئے تین ریٹ ہیں اور ظاہر کرنے کیلئے اصل ریٹ پر ٹیکس وصول ہو گا،سرکاری عہدہ رکھنے والے اس اسکیم میں شرکت نہیں کر سکتے۔ انہوںنے کہاکہ مختلف اداروں کے ڈیٹا کو یکجا کیا جا رہا ہے جس سے بے نامی اثاثے رکھنا ناممکن ہو جائےگا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں برآمدات میں رتی بھر اضافہ نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کا فائلر بنناضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ بیلنس شیٹ میں تبدیلی کی اجازت ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ جائیداد ایف بی آر کی قیمت سے ڈیڑھ گنا پر رجسٹر کی جائےگی۔ شبر زیدی نے کہاکہ کسی ٹیکس ادا کرنے والے آدمی کو ڈی ٹیکس نہیں کیا جائےگا،ٹیکس ادا کرنے والے آدمی یا ادارہ پر ریڈ نہیں کیا جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آر ٹیکس ادا کرنے والوں کو سہولت دے گا۔ ایک سوال پر حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی تاریخ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا جبکہ ایف بی آر کے نئے چیئرمین کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایف بی آر میں جو بھی تبدیلیاں کرنا چاہیں کریں۔ایک سوال کے جواب میں حفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات اچھے انداز میں مکمل ہوئے ،کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ بجلی اور گیس قیمتیں بڑھیں گی لیکن ہم نے اس مشکل کو کم کرنے کے لیے تین چار فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑنے دیں گے ، اس کے لیے بجٹ میں 216 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔مشیرخزانہ نے بتایا کہ گیس کی قیمت بڑھی تو چالیس فیصد کمی والے صارفین کو اثرات سے بچانے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ سال 2000 کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے اور یہ اسکیم تمام افراد اور کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ 30جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اس موقع پر ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کے مطابق کسی پراپرٹی کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے تو اسے 15 لاکھ پر سفید کیا جائےگا اور اس پر ڈیڑھ فیصد ادا کرنا پڑےگا۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکاو¿نٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑےگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرےگا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.