کابل میں خواتین کا احتجاج، طالبان کی طرف سے بذور قوت منتشر

0 125

کابل افغان دارالحکومت میں خواتین کے ایک چھوٹے سے گروہ نے اپنی آزادیوں کی واپسی کے لیے ایک ریلی نکالی۔ طالبان نے ریلی کو پرتشدد انداز میں منتشر کر دیا۔

طالبان حکومت نے اب تک خواتین کی آزادیاں بحال کرنے کے وعدے پورے نہیں کیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان خواتین نے کئی مہینوں بعد پہلی مرتبہ کابل میں اپنے حقوق کے لیے ایک مظاہرہ کیا۔ تقریبا 40 خواتین کے گروپ نے بھوک کے بحران کے حوالے سے خوراک، کام اور آزادی جیسے نعرے لگائے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے کام کرنے، تعلیم اور نقل و حرکت کے حقوق پر طالبان کی عائد کردہ پابندیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ان خواتین میں سے کچھ نے اپنے چہرے بھی نہیں ڈھانپے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے انصاف، انصاف، ہم جہالت سے تنگ آ چکے ہیں کے نعرے بھی بلند کیے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان فورسز نے وزارت تعلیم کی عمارت کے قریب شہر کے وسط میں اس مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور خواتین پر حملہ آور بھی ہوئے۔

ایک اور ویڈیو کلپ میں دیکھا گیا کہ خواتین کے ایک چھوٹے سے گروپ کو ایک بند جگہ پر طالبان فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کچھ کو طالبان جنگجوں نے اپنی رائفل کے بٹوں سے بھی مارا۔احتحاجی مارچ کے منتظمین میں سے ایک ژولیا پارسی نے کہا، بدقسمتی سے انٹیلی جنس سروس کے طالبان آئے اور انہوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ انہوں نے لڑکیوں کو منتشر کیا، ہمارے بینرز پھاڑ دیے اور بہت سی لڑکیوں کے موبائل فون چھین لیے۔قریب ایک برس قبل نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ طالبان 15 اگست 2021 کو اقتدار میں واپس آئے تو انہوں نے ماضی کے دور اقتدار کے سخت اسلامی قوانین کے برعکس نرمی اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.