حسیب حمزہ گمشدگی کیس کی تحقیقات کا حکم،عدالت نے معاملہ نمٹا دیا

0 131

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری حسیب حمزہ کی گمشدگی کے کیس کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہری حسیب حمزہ کے لاپتا ہونے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت آج بروز بدھ 14 ستمبر کو ہوئی۔ درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

اس موقع پر بازیاب ہونے والے شہری حسیب حمزہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے شہری حسیب حمزہ سے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اغوا کیا تھا ؟ جس پر شہری حسیب حمزہ نے عدالت کو بتایا کہ میری آنکھوں پر پٹی بندھی تھی، میں نہیں جانتا کہ مجھے کس نے اغواء کیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہدایت دی کہ آئی جی اس معاملے کی تحقیقات کی خود نگرانی کریں، عدالت کو توقع ہے کہ ماضی کے برعکس اتھارٹیز اس مرتبہ اپنا آئینی فریضہ ادا کریں گی۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسیب حمزہ کی گمشدگی نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے، تحقیقات ہونی چاہئیں کہ شہری کو کس نے اغوا کیا تھا۔ اس موقع پر عدالت نے کیس نمٹاتے ہوئے کیس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

گزشتہ سماعت میں کیا ہوا تھا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل 13 ستمبر کو لاپتا شہری حسیب کی بازیابی کیلئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی، جہاں عدالتی حکم پر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ دوران سماعت آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا تھا کہ لاپتا شہری حسیب حمزہ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آئی جی اسلام آباد سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ آئی جی صاحب، یہ ناقابل برداشت ہے، لاپتا افراد سے متعلق پہلے ایک فیصلہ موجود ہے جس میں یہ واضح قرار دیا گیا ہے کہ شہری کے لاپتا ہونے پر آئی جی اور متعلقہ افسران ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدالت اب اس فیصلے کے مطابق ہی کارروائی کرے گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد پولیس کو آج بروز بدھ 14 ستمبر کو صبح 10 بجے تک لاپتا شہری کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہر ایک کو بلا کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سمیت سب پیش ہو کر ریاست کی ناکامی کی وضاحت کریں گے، شہری کی عدم بازیابی پر ایم آئی، آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈرز پیش ہوں جب کہ اسپیشل برانچ اور آئی بی کے سیکٹر کمانڈرز بھی پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے کا یہ بھی کہنا تھا کہ 23 اگست سے شہری لاپتا ہے مگر مقدمہ 12 ستمبر کو درج ہوتا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ دنیا کی بہترین ایجنسیوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کہ لاپتا شہری کو پیش نہ کر سکیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو وقت دس بجے سے ساڑھے گیارہ کر دیتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آئی جی صاحب، یہ عدالت آپ پر اعتماد کر رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان بھی لاپتا افراد کے کیسز میں ہی اس عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے لاپتا شہری کو آج ساڑھے گیارہ بجے تک بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دیا دیتے ہوئے شہری کی بازیابی کے لیے زیادہ مہلت دینے کی آئی جی اسلام آباد کی استدعا مسترد کردی تھی۔ عدالت نے بدھ کو چیف کمشنر کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

لاپتا شہری کا کیس کیا ہے؟

لاپتا شہری حسیب حمزہ کی بازیابی کیلئے دائر درخواست میں ان کے والد ذوالفقار علی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا بیٹا ایک مزدور تھا جو لیہ میں کام کرتا تھا۔

درخواست کے مطابق درخواست میں وزارت دفاع کے ذریعے حکومت پاکستان، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور وزیر داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 22 اور 23 اگست کی رات 20 لوگ بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے جن میں سے 15 افراد نے سیاح یونیفارم پہنا ہوا تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ گھر میں چھاپہ مارنے کے بعد ان کے بیٹے کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر،5 موبائل فون اور کچھ ضروری کاغذات اپنے ساتھ لے گئے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ حالات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے بیٹے کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، درخواست گزار اپنے بیٹے کی تلاش کے لیے بھاگا دوڑا مگر ریاستی اداروں سے کسی قسم کا کوئی اطلاع نہیں ملا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت لاپتہ شہری کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرے۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان ذمہ داروں کی نشاندہی کرے اور شہری کو اغوا کرنے اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.