نیشنل اکائوٹیبیلیٹی آرڈینینس 1999 کے قانون کے تحت پلی بارگین کرنے والا شخص نہ صرف نوکری سے برخاست کر دیا جاتا ہے ، بلکہ وہ 10 سال تک کسی بھی سرکاری عہدے و الیکشن لڑنے کے لئے بھی نا اہل قرار پاتا ہے ،ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید
کوئٹہ (امروز نیوز)ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے قومی احتساب بیورو کے کیسز میں کرپشن کا اعتراف کرنے والے سرکاری آفیسران اور ملازمین کے خلاف بلوچستان حکومت کی جانب سے بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کاروائی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ حکومت کے کرپشن کے خلاف عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل اکائوٹیبیلیٹی آرڈینینس 1999 کے قانون کے تحت پلی بارگین کرنے والا شخص نہ صرف نوکری سے برخاست کر دیا جاتا ہے ، بلکہ وہ 10 سال تک کسی بھی سرکاری عہدے و الیکشن لڑنے کے لئے بھی نا اہل قرار پاتا ہے ۔ تا ہم نیب کیسز میں کئی ایسے ملزمان جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں وہ تاحال کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں ۔ قومی احتساب بیورو نے بلوچستان حکومت کی اس گھمبیرمسئلے کی جانب ماضی میں بار ہا توجہ مبذول کروائی لیکن ایسے افسران کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھائے گئے۔مالی بد عنوانی کے مرتکب سرکاری ملازمین کے خلاف بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کاروائی حوصلہ افزا ہے ۔ کلیدی عہدوں سے کرپٹ افسران کو ہٹانے کے عملی اقدام سے کرپشن کی حوصلہ شکنی اور اہل افسران کی تعیناتی سے دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ بلا شبہ کرپشن کے خاتمے کے لئے ا حسن اقدام ہے جس سے نہ صرف حکومتی کار کردگی میں بہتری آئیگی بلکہ یہ ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ڈا ئر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے کرپشن کے مکمل خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی وژن کی روشنی میں بد عنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہاہے ۔ انہوں نے کہا بلوچستان معدنی و سائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ اگر ان وسائل کو ایمان داری و دیانت سے استعمال کیا جائے تو عام آدمی بھی خوشحال زندگی گزار سکتا ہے۔یہ کر پشن کا ناسور ہی ہے جس نے عام آدمی کو ترقیاتی عمل کے ثمرات سے محروم کر رکھا ہے۔