الیکشن کمیشن پشاور میں نوکريوں کی لوٹ سيل
الیکشن کمیشن پشاور میں نوکريوں کی لوٹ سيل پر چیف الیکشن کمشنر نے متعدد افسران کو نوکری سے برخواست کردیا۔
الیکشن پشاور میں نوکریوں کی لوٹ سیل پر چیف الیکشن کمشنر نے نوٹس لے لیا، اور متعدد افسران کو نوکریوں سے برخاست کردیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق 2019 اور 2020 کے دوران پشاور مجموعی طور پر 51 ملازمین کو بھرتی کيا گيا، اور سما ٹی وی انویسٹیگیشن یونٹ نے 31 مئی کو ان سفارش پر ہونے والی بھرتیوں کی خبر بریک کی تھی۔
دستاویزات کے مطابق افسران نے اپنے بيٹوں، بھتیجوں، بھائیوں اوررشتہ داروں کو نوکریاں دلوائیں۔
دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ايڈيشنل ڈی جی الیکشن کميشن شمشاد خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ظہور شاہ نے اپنے اپنے بیٹوں کو نوکری دلوائی، جب کہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر خيبر نے اپنے بھتیجے کو نوکری دلوائی۔
ذرائع کے مطابق نوکریوں کی بندربانٹ کی خبر پر ضلع خیبر کے الیکشن افسر حمیداللہ نوکری سے برخاست کردیا گیا، اور ڈپٹی ڈائریکٹر وزیر اکبر بھی نوکری سے فارغ کردیئے گئے، جب کہ ریجنل الیکشن کمشنرعنایت اللہ وزیراور دو ڈائریکٹرز خوشحال زادہ اور حیدر علی کی نچلے گریڈ میں تنزلی کا حکم دیا گیا ہے۔
تحقیقات کی روشنی میں ان افسران پر نوکرياں اپنے خاندان ميں بانٹنے کا جرم ثابت ہوا ہے، جس کے بعد پشاور الیکشن کمیشن کے 7 دوسرے ملازمین بھی نوکری سے فارغ کردیئے گئے۔