مذہبی انتہا پسندی عالمی مسئلہ ہے، سنکیانگ میںپیشہ وارانہ تعلیمی مراکز اہم کردار ادا کر رہے ہیں، چین
بیجنگ(امروز نیوز)چین کے آزاد اور کودمختار علاقے سنکیانگ کی علاقائی حکومت کے چئیرمین شہرت ذاکرنے کہا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ایک عالمی مسئلہ ہے، پیشہ وارانہ تعلیم کے سنکیانگ میں مراکز اس پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،مراکز ملکی زبان پر مفت کلاسیں دے رہے ہیں،شرعی علوم، پیشہ وارانہ مہارت اور انتہا پسندی کےلئے سے متاثرہ افراد کی ذہن سازی کی جارہی ہے، کچھ لوگ مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیکر کر عوامی جذبات کو ابھارتے ہیں، چینی صدر شی جن پھنگ نے مذہبی انتہا پسندی پر کنٹرول کرنے کےلئے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مراکز قائم کئے ہیں، شی کی قیادت میں ایسے معاملات سے نپٹا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق چین کے آزاد اور کودمختار علاقے سنکیانگ کی علاقائی حکومت کے چئیر مین شہرت ذاکرنے کہا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ایک عالمی مسئلہ ہے، پیشہ وارانہ تعلیم کے سنکیانگ میں مراکز اس پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں مے کہا کہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے مذہبی انتہا پسندی پر کنٹرول کرنے کےلئے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مراکز قائم کئے ہیں، شی کی قیادت میں ایسے معاملات سے نپٹا جائے گا۔ مراکز ملکی زبان پر مفت کلاسیں دے رہے ہیں،شرعی علوم، پیشہ وارانہ مہارت اور انتہا پسندی کےلئے سے متاثرہ افراد کی ذہن سازی کی جارہی ہے، کچھ لوگ مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیکر کر عوامی جذبات کو ابھارتے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ایک پینل مباحثہ میں سنکیانگ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شنکیانگ کے ووکیشنل مراکز اور ذہن سازی کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا افواہیں پھیلا رہا ہے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں ۔ مسلم ممالک کے وفود نے سنکیانگ کا دورہ کیا اور وفد میں شامل افراد نے سنکیانگ میں ذہن سازی اور مذہبی انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے بارے کی گئی اصلاحات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا تھا۔چئیر مین نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سنکیانگ کی مضبوطی سے پاکستان،افغانستان،قازقستان سمیت دیگر 8ممالک بھی مستحکم ہونگے۔ سنکیانگ اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ایک محقق ماپا نیان نے کہا کہ شدت پسندی سے بین الاقوامی معاشرہ پریشان ہے۔سنکیانگ کے مراکز انتہا پسندی کے خاتمے کا ایک رول ماڈل ہے۔سنکیانگ کے اقدام کے مراکز کو قائم کرنے کے اپنے حالات اور ماضی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تکلیف دہ تجربات پر مبنی ہے۔